امتحان کی تیاری ، فکر انگیز انشے How to prepare for exams? THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Here are few tips for an effective exam preparatio

http://https://www.youtube.com/watch?v=2QiSe4bdNDg
امتحان کی تیاری ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
کچھ سادہ سی باتوں پر عمل کر کے مناسب وقت میں ذہنی دباؤ کے بغیر امتحان کی پر اعتماد تیاری کی جا سکتی ہے . پہلی بات تو یہ کہ تیاری بہت پہلے سے شروع کی جانی چاہیے ۔ اگر نصاب دوہرانے کے لیے وقت مہیا ہے تو ذہنی دبائو کم از کم ہوگا اور تیاری میں کسی بھی کمزوری کا احساس بہت پہلے سے ہوجائے گا اور حکمتِ عملی تبدیل کرنا ممکن ہو گا . امتحان سے خاصا پہلے تیاری کے بارے میں سوچنا شروع  کر دیں . منصوبہ بندی میں کچھ وقت صرف کریں اور ہفتے میں دو تین روز تیاری کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں اور اُن حصوں کی نشاندہی کریں جن میں تیاری کی زیادہ ضرورت ہے. بہت پہلے سے کی گئی تیاری امتحان سے پہلے کی رات پرسکون نیند فراہم کرتی ہے کیونکہ نصاب دہرانے کا دباو زیادہ نہیں ہوتا ۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ کم از کم سرسری طور پر مکمل نصاب سے آگاہی مل جاتی ہے  . کسی غیر متوقع سوال کا مختصر طور پر ہی صحیح مگر جواب لکھا جا سکتا ہے۔  پہلے سے تیاری شروع کرنے والے اکثر اپنے ذاتی نوٹس تیار کرتے ہیں جن کا دہرانا نسبتاً آسان ہوتا ہے. لیکن اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ نوٹس تیار کرنے میں دوسروں سے مدد لی جاے۔ اُن کے بہتر تیار شدہ نوٹس سے فائدہ اُٹھایا جاے . اپنے استادوں سے ٹیسٹ میٹریل کے بارے میں گفتگو کی جاے اور اضافی معلومات حاصل کی جایں ۔ یعنی مطالعہ کے ساتھ ضروری معلومات حاصل کرنا اور  اُسی حساب سے منظم ہونا اور تیاری کے لیے باقاعدہ کاغذ پر لکھا ہوامربوط منصوبہ تیار کرنا بہت ضروری ہے . کیا کچھ پڑھا جاے؟ کب اور کیسے ؟ ٹاپک مکمل کرنے، اُسے دہرانے کی ڈیڈ لائن وغیرہ ۔ عموماً امتحان کلاس کی مصروفیت اور استادوں کے پڑھائے ہوئے نصاب ہی سے مرتب ہوتے ہیں۔  اگر آپ باقاعدگی سے اپنی کلاس کی مصروفیت میں موجود رہے ہیں اور استادوں کی بات غور سے سُنی ہے تو امتحان کی تیاری آپ کے لیے آسان ہوگی.  جو مضامین آپ کو مشکل لگتے ہیں اُنہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ لیجیے اور اُن کی تیاری قدم بہ قدم کیجئے۔ مدد درکار ہو تو بلا جھجک ضرور حاصل کیجئے۔ ساتھیوں سے ،  استادوں سے.  اگر کوئی مشکل موجود ہے تو والدین کے ساتھ مل کر اس کا حل نکالیے۔ نصاب ایک دفعہ مکمل کرلینا کافی نہیں. اسے دوہرانا آپ کو پر اعتماد بنائے گا۔ اگر پچھلے سالوں کے پیپرز یا اسٹڈی گائیڈز میسر ہیں تو اُن سے ضرور فائدہ اُٹھائیے۔  اگر آپ امتحان کے قریب مضمون کی اسٹینڈرڈ ٹیکسٹ بُک سے ضروری حصے پڑھ سکیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔ مضمون دہرانے کے لیے فلیش کارڈ بنانا اہم ہے.  یعنی وہ باتیں جو آپ نے سیکھی ہیں اُنہیں سوالات میں تبدیل کیجیے اور پھر اس سوال کو کسی فلیش کارڈ پر لکھ لیجیے۔  پھر جب آپ دہرانے کے لیے یہ فلیش کارڈز استعمال کریں گے تو نہ صرف آپ کی یادداشت تازہ ہوگی بلکہ آپ اُن حصوں کی تیاری دوبارہ کرسکتے ہیں جو ابھی نامکمل ہیں۔ آپ ان فلیش کارڈز کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں اور چلتے پھرتے، گاڑی میں سفر کرتے ان فلیش کارڈز کی مدد سے اپنا مضمون دہرا سکتے ہیں. پچھلے پیپرز کو امتحانی  ماحول اور حد بندی میں پریکٹس کرنا انتہائی اہم ہے.  امتحان والی رات خوب اچھی نیند لیجیے لیکن امتحان شروع ہونے سے کم سے کم دو گھنٹے پہلے بیدار ہوجائیے تاکہ اطمینان سے تیار ہو سکیں۔ ناشتہ کرسکیں اور صحیح وقت پر کمرۂ امتحان میں پہنچ سکیں۔ کسی غیر متوقع سوال پر گھبرائیے مت اور جو کچھ بھی معلومات آپ کے پاس موجود ہیں۔ اُسے بہتر اور منظم طور پر پیش کیجیے۔  امتحان کی تیاری اکیلے یا کسی گروپ یا دوست کے ساتھ مل کر کرنا انفرادی معاملہ ہے لیکن وقفے وقفے سے ایک دوسرے سے سوال کرنا ، ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرنا اور کسی پیچیدہ موضوع کو سمجھنا بہت فائدہ مند ہے۔  اب آپ سے اجازت۔ اپنا خیال رکھیے گا۔——- ویلیوورسٹی ، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.