اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے Moral Values, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Defining values is the most fundamental step in the life of an individual or for building the nation.  It affects decisions, goals, and destiny

اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
قدروں سے میری مراد ہے وہ اخلاقی اصول جن کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں. سوال یہ ہے کہ اجتماعی قدروں سے آگاہی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے ؟  اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے پرامن طور پر اور  مل جل کر رہنا چاہیں تو اجتماعی قدروں پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے.  ایسی قدروں سے ہمارا پہلا تعارف اپنے بچپن میں ہوتا ہے اور ہم انھیں بلا سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں.  یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم ذہنی بلوغت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ان پر نظر ڈالیں. خود سے سوال کریں کہ  معاشرے میں رائج  رسموں ، تعلیم اور مذہب کے نام پر جو اخلاقی اصول ہمیں دیے گئے ہیں کیا وہ عقلی اور انسانی معیارات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟  مثلاً یہ کہ کیا دولت کمانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے؟  قدروں کی آگاہی آسان ہوجاتی ہے جب ہمیں سوال کرنے کی آزادی میسّر ہو.  اپنے والدین سے، اپنے بزرگوں سے،  دوستوں سے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے. لیکن یہ اظہار خیال عقلی بنیاد پر ہو.  دلیلوں کا استعمال کیا جا ے ، الزام تراشی کا نہیں.  آپ جن لوگوں پر اعتماد رکھتے ہیں ان سے سوال کیجیے.  ان سے اظہار خیال کیجیے.  وہ کن اجتماعی اخلاقی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں؟ پھر ان کے بیان کردہ زبانی نقطہ نظر کے علاوہ ان کی عملی ترجیحات پر بھی ذرا غور کیجئے. پھر خود اپنے قول اور فعل کے بارے میں سوچیے . کیا آپ کی ترجیحات ، پسند اور نا پسند زندگی کے مختلف ادوار میں مستحکم رہی ہے؟    جب زندگی میں اہم فیصلوں کا وقت آیا تو آپ نے کس قسم کے فیصلے کیے؟  اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج آپ کی توقعات کے مطابق تھے یا نہیں؟ کیا وہ فیصلے سکھائے گئے خاندانی یا معاشرتی اخلاقی اصولوں کے ماتحت تھے؟  کیا  عمر بڑھنے کے ساتھ آپ کی ترجیحات میں ،  آپ کے فیصلے کرنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے؟  جب آپ اپنی زندگی پر اور اپنے اردگرد بسنے والوں کی زندگی پر نظر ڈالیں گے تو آہستہ آہستہ آپ انفرادی اور اجتماعی قدروں سے آگاہ ہوں گے.  ہم میں سے بیشتر لوگ جو اخلاقی اصول زبانی طور پر بیان کرتے ہیں اپنی عملی زندگی میں انہیں لاگو نہیں کرتے. ان اخلاقی تضادات کی جڑیں ہمارے بچپن، ہمارے معاشرے اور مذہبی تعلیم کے حوالے سے سکھائی گئی قدروں تک پوھنچتی ہیں . خود سے اور اپنے دوستوں سے سوال کیجیے کہ کیا آپ اور آپ کے دوست سماجی انصاف پر یقین رکھتے ہیں؟    کیا یہ بات آپ کے روزمرہ عمل اور آپ کی ترجیحات سے جھلکتی ہے؟  یہ دیکھیے کہ زندگی کا کونسا ایسا پہلو ہے جس پر آپ اخراجات کرنے سے نہیں جھجھکتے .  کیا سیروتفریح آپ کی بنیادی ترجیح ہے یا سماجی فلاح کے کاموں میں حصہ لینا ؟  اگر آپ ادیب ہیں تو کیا داد و ستائش کے طلبگار ہیں یا قاری کے مفاد کے ؟ آپ جن قدروں  پر یقین رکھتے ہیں ان کی ایک فہرست بنالیں.  پھر ایک ایک کر کے ان پر غور کریں ، دوستوں سے اظہار خیال کریں.  چلئے کچھ اجتماعی اخلاقی قدروں کی نشاندہی میں کئے دیتا ہوں مثلا دیانتداری،  توازن ، ہمدردی،  احترام ،  سخاوت،  صحت کا خیال، مسلسل سیکھنا ، دانش مندی اور محبت . ان میں سے ایک ایک موضوع پر ذرا غور کیجیے .  دوستوں سے اور اپنے خاندان والوں سے ان موضوعات پر گفتگو کا وقت نکالیے . دریافت کیجئے کہ خود انحصاری پر،  باہمی تعاون یا مالی استحکام پر اور انکساری اور صبر و استقامت پر ان کے اور آپ کے خیالات کیا ہیں؟  اپنے اندر موجود اخلاقی اصولوں تک اسی غور و فکر کے ذریعہ ہی سے پوھنچا جا سکتا ہے .  اپنے روزگار اور اپنی زیر مطالعہ کتابوں پر ایک نظر ڈالیے .  یہ بات آپ پر واضح ہوتی چلی جا ے گی کہ آپ کے لئے زندگی میں کیا چیز زیادہ اہم ہے.  کون سے اخلاقی اصول ایسے ہیں جن کے تحت آپ زندگی بسر کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں.  ہم انسانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے.  سوچ وبچارکا راستہ.  اپنی عقل کے استعمال کا راستہ.  اور صرف یہ راستہ ہی دانش مندانہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے.  اب آپ سے اجازت —-  ویڈیو سٹی،  شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *