Tower Ay ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء Merewether Tower, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 31

James Strachan designed the Gothic style Merewether clock tower in Karachi to keep us reminded of the passing times. Awareness of time is the distinguishing feature of human kind from the lower animals

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء، شارق علی
کالج جانے کے لئے ڈبلیو گیاره کا انتظار ہوتا تو بس اسٹاپ پر رکتی سب بسوں کے کنڈیکٹر ایک ہی گردان کرتے۔ ٹاور ٹاور ٹاوراے۔ جتنا نام اس عمارت کا سنا کسی اور کا نہیں۔ ہمارے جگری یار کے والد کا نزاری ہوٹل ٹاور کے قریب تھا۔ مہینے میں ایک بار مفت خوری ضروری ہوتی۔ ایک دفعہ اتوار کے روز میری ویدر ٹاور کو قریب سے دیکھا۔ پروفیسر گل زمانہ طالبِ علمی یاد کر رہے تھے۔ بولے۔ گوتھک طرز میں گزری پتھروںسے بنا چوالیس فٹ چوڑا اور ایک سو دو فٹ اونچا کلاک ٹاور۔ میونسپل انجینیئر جیمز اسٹریچن کا کراچی کو ایک اور تحفہ جو اٹھارہ سو بانوے میں تعمیر ہوا۔ سنگتراشی سے کی گئی سجاوٹ خوش زوقی اور مہارت کی مثال ہے۔ داؤدی ستارہ یا تو آرائشی اتفاق ہے یا کراچی کے یہودیوں کو اسٹریچن کا خراجِ تحسین، بڑا گھنٹا ہر گھنٹے اور چھوٹا ہر پندرہ منٹ پر بجا کرتا تھا پہلے۔ اب تو ٹریفک، دکانداروں اور راہ گیروں کے شور کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ عمارت کی خستہ حالی حکومتی بے توجہی کی ویسی ہی تصویر ہے جیسا کے پورا شہر کراچی۔ کلاک ٹاور وقت کی اہمیت کا اظہار تو ہیں لیکن یہ وقت بجائے خود ہے کیا؟ سوفی نے فلسفیانہ انداز میں سوال کیا۔ پروفیسر بولے۔ یوں تو وقت بہت سادہ اور سامنے کی بات لگتی ہے۔ لیکن اس کی مطمئن وضاحت بے حد دشوار اور پراسرار ہے۔ آسانی کے لئے ہم اسے گھڑی سے ماپی جانیوالی قدر کہہ سکتے ہیں۔ یا کائنات کی وہ خصوصیت جو ایک واقع کو دوبارہ نہیں ہونے دیتی۔ فاصلے سے بے نیاز یہ تسلسل ایک ایسی لکیر ہے جو مسلسل آگے کی سمت رواں رہتی ہے۔ وہ بہتا دریا جس میں دو بار چھلانگ لگانا ممکن نہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست لیکن وقت آج بھی ایک کائناتی اسرار ہے۔ ہم انسان وقت ناپنا سیکھ گئے ہیں لیکن اسے پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ رمز بولا۔ قدیم انسان کے لئے وقت دائرہ وار تھا۔ صبح ،دوپہر، شام اور رات۔ بہار، گرمی، خزاں اور سردی۔ سورج اور چاند کا طلوع اور غروب۔ گھڑی ایجاد ہوئی تو یہ سیدھی لکیر بن گیا۔ بنگ بینگ سے لے کر اس جاری گفتگو تک چودہ بلین سال لمبی لکیر۔ کاش ہم وقت میں سفر کر سکتے۔ پروفیسر نے کہا۔ یہ آرزو نئی نہیں۔ بہت سی قدیم کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً مہابھارت میں روائتہ جنت میں براہما سے مل کر لوٹتا ہے تو زمین پر مدتیں گزر چکیں ہوتیں ہیں۔ پھر اس غار کا قصہ جس کا ذکر قرآن اور بائبل دونوں میں موجود ہے۔ ایک خدا پر ایمان رکھنے والے عبادت گزار چند نوجوان جو ظالم رومن بادشاہ دقیانوس کے سالانہ بت پرستی کے جشن سے انکاری ہو کر اور اس کے دیئے قتل کے حکم سے جان بچا کر ایک مقامی دہقان اور اس کے کتے کی مدد سے اس غار  میں پناہ لیتے ہیں۔ کتا حفاظت کے لئے باہر اور وہ غار کے اندر چند گھنٹوں کی نیند کے بعد جاگتے ہیں تو تین سو سال گزر چکے ہوتے ہیں۔ احساس تب ہوتا ہے جب ان میں سے ایک کھانا خریدنے بازار جاتا ہے اور دکاندار قدیم سکے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ پھر نیا بادشاہ جو صاحبِ ایمان ہے ننگے پاؤں ان کی زیارت کو آتا ہے۔ کہتے ہیں اصحابِ کہف اسی غار کے آس پاس دفن ہیں۔ ترکی اور اردن دونوں ہی غار کہف کی موجودگی کے دعویدار ہیں۔ قصے کہانی چھوڑیئے۔ کیا سائنسی طور پر یہ ممکن ہے؟ میں نے کہا۔ بولے۔ اگر رفتار روشنی سے بھی زیادہ تیز ہو جائے تو شاید ایسا ممکن ہو۔ لیکن اس کے لئے بے اندازہ توانائی درکار ہو گی۔ یا پھر سائنس فکشن کے کرداروں کی طرح کوسمک اسٹرنگس، بلیک ہول، یا وارم ہول سے ہو کر گزرنے کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ کہتےہیں آئینسٹائن خود سے اکثر یہ سوال کرتا تھا کہ کیا ہم کبھی روشنی کی کرن پر سوار کائنات کی مکمل حقیقت کو محض ایک نقطے کی صورت دیکھ سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.