Taksim Chowk تقسیم چوک، سیج ، انشے سیریل، انتیسواں انشاء Taksim Square, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 29

The heart of modern Istanbul is a lively place to be in. Taksim Square has been a battle ground for clashes of secular and conservative ideas. The search for identity continues

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

تقسیم چوک، سیج ، انشے سیریل، انتیسواں انشاء، شارق علی
ہمارا قیام تقسیم چوک سے کوئی سو گز کے فاصلے پر تھا۔ شہر کا مرکزی اور بے حد مصروف مقام ہے یہ۔ مشہور ہوٹلوں اور پر رونق بازاروں سے گھرا ہوا۔ کنکریٹ کے کشادہ میدان میں رات گئے تک تفریحی اور ثقافتی گہما گہمی رہتی ہے  ۔ جا بجا چیسٹنٹ،  بھٹے اور قہوہ بیچتے ٹھیلے اور موسیقی کا کمال دکھاتی فنکار ٹولیاں۔ استقلال اسٹریٹ، ٹرین کا اڈہ اور میٹرو سٹیشن بھی پاس ہی ۔ سوفی استنبول میں گزاری چھٹی کا ذکر کر رہی تھی۔ بولی ۔ بیچ میں انیس سو اٹھائیس میں تعمیر ہوئی آزادی کی یادگار ہے جس میں اتا ترک کا مجسمہ شامل ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں سلطان مہمت اول نے اسی جگہ  شہر میں پانی کی تقسیم کا نظام بنایا تھا۔ تب سے یہ تقسیم چوک کہلاتا ہے۔ کئی شامیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر کتاب پڑھتے اور دوستوں سے گپ شپ کرتے گزریں۔ پروفیسر بولے۔ استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جہاں دو بر اعظم گلے ملتے ہیں۔ جہاں مغربی اور مشرقی ثقافت کا حسن طرز تعمیر اور طرز زندگی میں صاف جھلکتا ہے۔ گلیوں میں رومن، بازنطینی اور سلطنت عثمانیہ کے عروج و زوال کی دو ہزار سالہ تاریخ قدم بہ قدم ساتھ چلتی ہے ۔ کوئی ڈیڑھ کروڑ آبادی، تین چوتھائی یورپی حصے میں آباد۔ یہ ہی تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے۔ سات پہاڑیوں پر مشتمل اس شہر کی ہر چوٹی پر ایک شاندار مسجد نظر آتی ہے۔ سمندر سے گھرے شہر کے بیچ سے گزرتا باسفورس اسے مزید دلکش بناتا ہے۔ آگاتھا کرسٹی نے اپنا مشہور ناول مرڈر آن اورینٹ ایکسپریس استنبول کے پیرا پالاس ہوٹل کے قیام کے دوران لکھا۔ یہ ٹرین اٹھارہ سو تراسی سے انیس سو ستتر تک استنبول اور پیرس کے درمیان چلا کرتی تھی۔ نیلی مسجد دیکھی تم نے سوفی؟ رمز بولا۔ کیوں نہیں۔ سوفی نے کہا۔ سلطان اہمت کے ٹرام اسٹیشن پر اتر کر پھولوں کی کیاریوں اور فواروں کے پاس سے گذر کر آگے بڑھو تو پختہ اینٹوں سے بنی میدان نما گزرگاہ ہے۔ دونوں جانب سایہ دار درخت اور ہر طرف دکھتے سیاح ۔ نیلی مسجد ، ہا گیہ صوفیہ اور  ٹوپ کا پی میوزیم انہی پیدل گزرگاہوں کی پوھنچ میں ہیں۔ نیلی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھی۔ جب تک داخل نہ ہو جاو یہ راز نہیں کھلتا کہ اسے نیلی مسجد کیوں کہا جاتا ہے۔ اندرونی آرائش میں نیلے ٹایلوں کا دلکش استعمال دیکھو تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ بہت کشادہ ہال کی دیواروں اور گنبد کی آرائش بے مثال ہے۔ سلطان اہمت نے اسے ہا گیہ صوفیا کے مقابلے میں اس کے بالکل سامنے تعمیر کروایا تھا۔ بازنطینی چرچ ہاگیا صوفیہ چھٹی صدی میں تعمیر ہوا تھا۔ یہ نو سو برس تک دنیا کا سب سے بڑا چرچ رہا۔ پھر سلطنت عثمانیہ میں اسے مسجد بنا دیا گیا۔ جدید ترکی میں یہ ایک میوزیم ہے۔  ٹوپ کاپی میوزیم بھی قابل دید جگہ ہے۔ اس کے سر سبز باغات باسفورس کے نیلے پانیوں کے قریب ہی ہیں۔ اور شاپنگ؟ میں نے پوچھا۔ بولی۔ بھرپور لطف اٹھایا اس کا بھی۔ پندرہویں صدی میں تعمیر ہوا تھا گرانڈ بازار۔ دنیا کا سب سے قدیم چھت سے ڈھکا بازار ہے یہ۔ ساٹھ گلیاں اور پانچ ہزار دکانیں۔ کہتے ہیں روزانہ پچیس لاکھ افراد خریداری کرتے ہیں۔ ہڑتالیں بھی ہوتی ہوں گی تقسیم چوک میں؟ رمز نے پوچھا۔ پروفیسر بولے۔ بغاوت اتنی ہی قدیم ہے جتنا جبر۔ عوامی احتجاج کے سلسلے آزاد خیال شہری ریاستوں کے قیام کے بعد وجود میں آئے تھے جب قوانین اور انفرادی آزادی میں ٹکراو پیدا ہوا۔ شہر کے مرکزی چوک جو عام دنوں میں میل ملاپ، سیر و تفریح، ثقافتی اظہار اور خریداری کے مرکز ہوا کرتے تھے، عوامی خیال آرائی اور مظاہروں کے لئے بھی موذوں قرار پائے۔ تقسیم چوک بھی عوامی تحریکوں کا مرکزی مقام ہے۔ رجعت پسندوں اور سیکولر خیالات کے مابین یہ کئی بار میدان جنگ بنا ہے۔ گویا یہ نظریاتی تقسیم کا چوک بھی ہے۔ دو ہزار تیرہ  میں قریبی واقے گیزی پارک میں درختوں کو بے دردی سے کاٹ کر شاپنگ مال بنانے کے خلاف اس چوک میں پر جوش احتجاج ہوا تھا۔ حکومتی جبر کے نتیجے میں آٹھ لوگ جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اب یہاں مسلسل پولیس کا گشت جاری رہتا ہے تاکہ عوامی اجتماعات نہ ہونے پائیں۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.