Keti Bandar کیٹی بندر، سیج، انشے سیریل، ستائیسواں انشاء Keti Bandar, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 27

Experience a glimpse of fisherman`s plight residing on the shores of Keti Bandar in this story

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

کیٹی بندر، سیج، انشے سیریل، ستائیسواں انشاء، شارق علی
صبح دم سفر کا آغاز کیا تو کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھا۔ دو کاروں اور امدادی سامان سے لدی تین ویگنوں میں سوار قافلے کی منزل کیٹی بندر تھی۔طوفان کا رخ اومان کا ساحل تھا لیکن ٹھٹہ ڈسٹرکٹ کی ساحلی بستیاں بھی لہروں کی طغیانی اور تیز ہوائوں سے متاثر ہوئی تھیں۔ سو کے قریب کشتیاں مچھلیاں پکڑنے سمندر میں نکلیں۔ بیشتر واپس نہ لوٹ سکیں۔ ساحلی بستیوں میں بسے مچھیروں کے خاندان کیمپوں میں امداد کے منتظر تھے۔ پروفیسر گل نے چائے کا گھونٹ بھرا اور بات جاری رکھی۔ تعزیت کے لئے اس بوڑھے مچھیرے سے ملے جس کے خاندان کے سات افراد گہرے سمندر میں اب تک گمشدہ تھے۔ دھوپ سے سنولا ے جھریوں بھرے چہرے پر آنسوں سے بھیگی سفید داڑھی. سندھی دستور میں گلے ملا تو ہاتھوں اور جسم کی دکھ بھری لرزش نے مجھے بھی اشکبار کر دیا۔ مدد کرنے کی تسکین، ناکافی کوششوں اور بے بسی کے احساس میں کہیں گم ہو گئی۔ کیوں رہتے ہیں یہ لوگ ساحلوں کے قریب؟ میں نے دکھی دل سے پوچھا۔ بولے۔ پہلے ان میں سے بیشتر کسان تھے۔ قحط پڑا تو جگہ جگہ گھوم کر بکریاں چرانے لگے۔ گزارا نہ ہوا تو ساحل کنارے بستیاں بسا کر مچھیرے بن گئے۔ پہلے کانٹے سے پکڑتے تھے۔ پھر جال بنانا اور پھیلانا سیکھا۔ کشتیاں با دبانی تھیں۔ ساحل سے زیادہ دور جانا ممکن نہیں تھا۔ اب موٹر والی کشتیاں ہیں تو وہاں تک جاتے ہیں جہاں بستی کی پہاڑیاں دکھائی دینا بند ہو جائیں۔ تقریباً سو فٹ گہرائی تک۔ کچھ کے پاس بڑی لانچیں اور ٹرالربھی ہیں۔ وہ گہرے سمندر میں شکار کرتے ہیں ۔کیا مچھلی بہت کھاتے ہیں کراچی کے لوگ؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ گہرے پانیوں سے جڑی بندرگاہ ہے کراچی لیکن مچھلی بہت زیادہ نہیں کھائی جاتی۔ عام مفروضے مثلاً مچھلی گر م ہوتی ہے اور صرف سردیوں میں مفید ،شاید اس کی ایک وجہ ہیں۔ پھر بھی شوقین لوگ صبح ہوتے ہی ایمپریس مارکیٹ، کورنگی یا موسی کالونی کا رخ کرتے ہیں۔ دام کی پرواہ نہ ہو تو ڈولمین مال اور دیگر سپر اسٹوروں میں بھی اعلیٰ درجہ کی پومفریٹ دستیاب ہے۔ روز کا معمول کیا ہے ان مچھیروں کا ؟ رمز نے پوچھا۔ بولے۔ یہی سوال میں نے اللہ ڈینو سے کیا تھا۔ اکیس سالہ نو جوان مچھیرا، جو امدادی مہم میں ہمارے ساتھ رہا۔ اسی سے پتہ چلا کے وہ ہر روز سورج نکلنے سے پہلے اپنے استاد کے ساتھ ریتیلا ساحل ننگے پائوں عبور کر کے کمرتک گہرے پانی میں ایک دوسرے سے بندھی کشتیوں میں سے اپنی کشتی کھول کر سوار ہو جاتا ہے ۔ ممکنہ کمائی کا اشتیاق، کچھ خدشات اور تھوڑا سا خوف دل میں ساتھ لئے۔ بیس فٹ لمبی، پانچ فٹ چوڑی لکڑی کی کشتی میں تین آدمیوں اور شکار بھرے جال کی گنجائش ہوتی ہے۔ کچھ رسیاں اور لکڑی کا تختہ بھی۔ ایک پیٹرول انجن اور حسبِ ضرورت پانی میں اتارا جانے والا پروپیلر بھی۔ پھر وہ گہرے پانی میں پوھونچ کر پہلے سے پھیلائے ہوئے جالوں کو ایک ایک کر کے سمیٹتے ہیں۔ جال کی پہچان کے لئے مختلف رنگوں کی جھنڈیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ پھر کشتی میں کھنچے جال سے  شکار ہوئے جھینگوں اور مچھلیوں کو علیحدہ کیا جاتا ہے۔ دھوپ چڑھ جائے تو بھی سمندری ہوا اور چلتی موٹر سے شرابور کپڑے گرمی کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ کونسے مقام پر کس موسم اور کس وقت میں زیادہ مچھلی ہو گی یہ استاد خوب جانتا ہے۔ زیادہ تر مونگرا، سرمئی، سانپ جیسی لمبی سانگ مچھلی اور چھوٹے بڑے کیکڑے۔ قسمت اچھی ہو تو ایک آدھ کلو لوبسٹر بھی جو ہزار دو ہزار میں ایکسپورٹ والے خرید لیتے ہیں۔ پھر وہ خالی جال طے شدہ جگہوں پر دوبارہ ڈال کر واپس بستی میں لوٹ آتے ہیں۔ وہ مال جو بک نہیں سکتا آپس میں تقسیم ہو جاتا ہے اور یوںگھر کا چولہا جلتا ہے۔ پانچ سو کا پیٹرول، سات سو اللہ ڈینو کی دیہاڑی۔ استادکو دو ڈھائی ہزار روپے بچ جاتے ہیں۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.