کامیابی، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، تیسرا انشا Success, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 3

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں
کامیابی،  مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، تیسرا انشا ، شارق علی
اس سے پہلے کہ میں اور آپ اپنے اس ذہنی سفر کا آغاز کریں . میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے سماجی نظام میں رائج کچھ مفروضات کو اپنے ذہن میں حقیقت پسندانہ انداز سے صاف اور شفاف طور پر سمجھ لیں. پہلا مفروضہ جو ہمارے سفر کی سب سے بڑی رُکاوٹ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ ہے ہمارے معاشرے میں کامیابی کا تصور۔  بلکہ شاید یوں کہنا درست ہوگا کہ بظاہر کامیابی کا تصور۔ ہماری معاشرتی زندگی اور اس سے جڑا میڈیا جس میں ٹی وی، رسائل، اخبارات سبھی کچھ شامل ہیں، دانستہ یا نادانستہ طور پر دولت مندی، شہرت، سماجی مرتبے یا طاقت کوکامیابی کا معیار بنا کر ان کی تشہیر کرتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ کامیابی کے بارے میں ایک صاف شفاف اور واضح تصور اپنے ذہن میں نہیں رکھتے تو شاید اس کی وجہ وہ جھوٹ ہے کہ جوہم سے بار بار بولا جاتا ہے اور وہ یہ کہ دولت مند، طاقتور اور شہرت یافتہ لوگ وہ لوگ ہیںجو کامیابی کی منزل تک جا پہنچے ہیں۔ اور ایک بھرپور اور پُر مسرت زندگی گزارتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اس سارے بیان میں یہ بات تو سچ ہوسکتی ہے کہ کچھ لوگ دولت مند ہوں طاقتور بھی اور شہرت یافتہ بھی۔مگر جو بات بہت بڑا جھوٹ ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک بھرپور اور پُرمسرت زندگی گزارتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ اُنہیں یہ مسرت اور ہمیشگی کبھی بھی میسر نہیں آتی۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ یہ تکلیف دہ سچ اُن کے لیے بھی باعثِ تکلیف ہوتا ہے جو دولت مندی، طاقت اور شہرت کی منزل کی طرف اندھا دھند سفر کرکے اس سراب تک جا پہنچے ہیں، اس مفروضے کو سچ جان کرکہ مسرت اور سکون اب اُن کا نصیب ہو گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کوئی ایسا مقام نہیں کہ جہاں کھڑے ہوکر آپ نیچے کی طرف دیکھ سکیں۔ بلکہ کامیابی تو ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ میرے خیال میں کامیابی کا آغاز اس لمحے ہوتا ہے جب ہم اس حقیقت کو جان لیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد دانش مندی کی سمت ایک مسلسل سفر ہے، ذہنی اور روحانی سفر۔ اور اس کے دوران ہم اپنے انسان ہونے کے منصب اور شرف کو حاصل کرتے ہیں.  اور اس سفر میں ہم اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ اپنے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ ایک بھرپور، کارآمد اور پُرمسرت زندگی گزار سکیں۔ زندگی علم اور دانش مندی کی سمت ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ جب ہم اس بات کو پوری طرح جان لیتے ہیں، تو زندگی کامیابی بن جاتی ہے، حیرت انگیز دریافت اور آگے بڑھنے کی ولولہ انگیزی اور ایک مسرت آمیز سفر بن جاتی ہے۔خود اپنے ہی اندر ، اپنی صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور اُن سے شناسا ہونے کا راستہ بن جاتی ہے۔ کامیابی کا معیار خوشی ہے نہ کہ دولت، طاقت شہرت اور سماجی مرتبہ۔ اور خوشی کا تعلق ہماری زندگی میں تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال سے اور نئے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے ذہنی طرزِ عمل پر ہے۔ خوشی کا تعلق ہماری ہمت سے ہے۔ اور اپنے ذہن کو حقا ئق کے لیے کھلا رکھنے کی صلاحیت سے ہے۔ اگر آپ بھی میری ہی طرح ایک عام آدمی ہیں۔ مگر اپنی زندگی گزارنے کے عمل میں خوشی اورولولہ انگیزی کو محسوس کرتے ہیں۔ زندگی میں حصہ بٹانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ * تو آپ بلاشبہ کامیاب ہیں۔ لیکن اگر آپ آج تک خوشی اور ولولہ انگیزی سے دور رہے ہیں، زندگی میں رسک لینے سے گریزاں رہے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ درست موقع پر درست فیصلہ کرنے سے محروم رہے ہیں۔ تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ ناکام ہوئے ہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑے گا تو صرف اس بات سے کہ کیا آپ سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اپنی غلطیوں سے اپنی ہار سے اور اپنے ماضی سے۔ فرق پڑے گا تو صرف اس بات سے کہ کیا آپ آگے کی سمت میں بڑھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ ہوسکتا ہے غلطیوں سے بھری ہوئی زندگی زیادہ بھرپور، زیادہ دلچسپ اور زیادہ ولولہ انگیز ہو۔ اس زندگی کے مقابلے میں کہ جس میں کوئی فیصلہ کیا ہی نہ گیا ہو۔ کسی مقصد کے لیے جوش کو اختیار کیا ہی نہ گیا ہو۔  ہوسکتا ہے غلطیوں اور ناکامیوں کی سنگلاخ چٹانوں کے نیچے تجربات اور دانش مندی کے ہیرے پوشیدہ ہوں۔ بات صرف دریافت کرنے کی ہے۔ اس دانش مندی کو دریافت کرنے کی کہ جسے بنیاد بنا کر ہم اپنے مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ شاید خودشناسی اور دانش مندی ہی وہ سب سے بڑی جائیداد، وہ سب سے ورثہ ہے کہ جو ہمیں ہماری زندگی کے مقصد تک لے جاتا ہے۔ لیکن اب دوسری سمت دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی کی ہوئی غلطیوں سے تجربہ حاصل کرنے اور سیکھنے میں ناکام رہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ہم ایسی ہی غلطیاں دوبارہ کریں گے۔ میںاس بات پر یقین رکھتاہوں کہ دانش مندی ہمیں تب ہی حاصل ہوتی ہے کہ جب ہم اندر سے اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ اگر آپ چلتے چلتے میرے ساتھ یہاں تک آ پہنچے ہیں تو گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ میرے ساتھ اس پرواز کے لیے تیار ہیں….. جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.