حسن آہن، سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا Iron Lady, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 46

Enjoy the glimpse of Paris in this story. Its 19th-century streets crisscrossed by River Seine. And the most beautiful landmark Eiffel Tower

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories from me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial
Listen, read, reflect and enjoy!
حسن آہن ،  سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا، شارق علی
قطار کیا تھی ایک طویل لہریے دار سانپ تھا جو دھیرے دھیرے آگے سرک رہا تھا۔ پاس ہی غالباً غیر قانونی پناہ گزینوں کے زمین پر چادر بچھا کر آیفل کے چھوٹے بڑے ریپلیکا بیچتے عارضی اسٹال تھے۔ گشتی پولیس آتی دکھائی دی تو بھگدڑ مچ گئی ۔ سارے اسٹال غائب، سامان چادر میں لپیٹ کر یہ جا وہ جا۔  پولیس اوجھل ہوئی تو دوبارہ رونق بحال ۔ رمز پیرس کی چھٹیوں کا ذکر کررہا تھا، بولا.  بالآخر سیکورٹی سے گذر کر آیفل کے چار دیو ہیکل اور محرابی جنگلے دار فولادی ستونوں سے گھرے بڑے سے کشادہ میدان میں پہنچے۔ میدان کے مرکز میں کھڑے ہوکر اوپر دیکھو تو آیفل کی عظیم الشان تعمیراتی بلندی اور خوبصورتی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ چار دیو نما آہنی  جنگلے دار ستون بے حد حسین جمالیاتی تناسب سے ایک دوسرے اور اپنے نقطۂ عروج کی سمت اوپر اُٹھتے ہوئے، دیکھنے والے کو فنکارانہ تخیل اور تعمیراتی کمال پر قائل کرلیتے ہیں ۔  پروفیسر گِل بولے،  پیرس بھی خوب شہر ہے،تاریخی، تعمیراتی اور ثقافتی حسن سے آراستہ۔  تھومس جیفرسن نے کہا تھا ، اگر آپ کو تاریخ، حسن اور زندگی کے بارے میں نکتہ نظر درکار ہے تو پیرس کی سیر کیجیے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ ایک رومن شہر تھا اور نام تھا لیوٹیشیا.  یہاں کے رہنے والے اس وقت بھی پیرسی کہلاتے تھے۔  پھر اسی نسبت سے یہ بعد میں پیرس کہلایا۔ اب تو امریکہ،  سویڈن،  پانامہ سمیت پوری دُنیا میںاس نام کے چھتیس (۳۶) شہر ہیں ۔ دریائے سین کی سیر کی تم نے؟  سوفی نے پوچھا۔ رمز بولا. کیوں نہیں۔ دھوپ سے نکھری مگر ڈھلتی شام میں کروز پر سوار ہونے سے ذرا پہلے، اسٹالوں پر بکتے کریبس اور آئسکریم کے مزے اُڑائے۔ پھر بڑی سی بوٹ میں بیٹھ کر دریا کے کنارے واقع بیشتر تاریخی عمارتوں کا نظارہ کیا۔ نوٹریڈم بے حد منفرد گرجا گھر ہے۔ کہتے ہیں اس کی گھنٹی کا وزن تیرہ (۱۳) ٹن سے زیادہ ہے۔  دریائے سین کے چھوٹے سے جزیرے پر تعمیر ہوئ امریکی مجسمۂ آزادی کی نقل بھی دیکھی۔  ڈھلتی شام اور بڑھتی رات میں جھلملاتے آیفل کا نظارہ سب سے زیادہ  یادگار تھا۔  یقین ہی نہیں آتا کہ سوا سو سال پہلے دو سال کی مدت میں تعمیر کی جانے والی، انقلابِ فرانس کے شہداء کی یہ حسین یادگار عالمی میلے کے لیے صرف بیس سال کی عارضی مدت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ لیکن وائر لیس مینار ہونے کی افادیت اور عام لوگوں کی ہردلعزیزی نے اِسے آج تک قائم رکھا ہوا ہے۔ یہ چالیس سال تک دُنیا کی بلند ترین عمارت بھی رہا ہے۔ آیفل کے اوپر تک گئے تم؟ میں نے پوچھا۔ بولا، سولہ سو پینسٹھ سیڑھیاں چڑھنے کی ہمت مجھ میں تو نہیں تھی۔ اور لفٹ میں سوار ہونے کی قطار بے حد لمبی۔ بس دوسری منزل تک چڑھ سکا۔ شہر کا نظارہ وہاں سے بھی لاجواب ہے۔ سردی زیادہ ہوتو آیفل چھ انچ سُکڑنا  اور تیز ہوا میں تین انچ لہرانا  بھی جانتا ہے۔  فرانسیسی ماہرِ تعمیر گستاف آیفل باوجود خواہش کے پانامہ کینال تو تعمیر نہ کرسکا تھا۔ لیکن پھر اس نے آیفل کی تعمیر جیسا معجزہ دکھایا۔ گستاف نے تیسری منزل پر دوستوں کے ساتھ شغل میلے کے لیے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ بھی بنایا تھا۔  اب یہ عام لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ آیفل کے ایک گوشے میں اُن بہتر انجینئر ، سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کے نام لکھے ہیں جنہوں نے اس کی تعمیر ممکن بنائی۔اور ایک جانب گستاف کا مجسمہ نصب ہے۔ کہتے ہیں گستاف بیتھووِن کی پانچویں سمفنی سُنتے ہوئے اس دُنیا سے رخصت ہوا تھا۔—-جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.