جواز ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، آٹھواں انشا Justification, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 8

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں
جواز ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، آٹھواں انشا
آئیے اب اس بات پر اپنی توجہ کو مرکوز کریں کہ آپ کا مقصدِ زندگی کیا ہے۔  اور اس پورے کائناتی عمل میں آپ کی تخلیق کے جواز کی وضاحت کس طرح ممکن ہے۔ آپ اپنی زندگی کس طرح بسر کرتے ہیں۔  اور اسے دوسروںکے لیے کیسے کارآمد بناتے ہیں۔ یہ بات نہ صرف آپ کے لیے اہم ہے بلکہ اس ساری دُنیا اور سارے کائناتی عمل کے لیے اہم ہے۔ اس کرہ ارض پر اس موجودہ لمحے میں  تقریباً چھے بلین افراد زندگی کے اس سفر میں ہمارے شریک ہیں۔  اور اتنے بہت سارے لوگوں میں اپنی انفرادی شناخت کے بارے میں کم مائیگی کا احساس رکھنا سمجھ میں آنی والی بات ہے۔ لیکن کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ہماری اس اجتماعی دُنیا نے ماضی میں بھی اور حال میں بھی انفرادی فکر سے اور انفرادی تخلیقی صلاحیت اور عمل سے استفادہ بھی کیا ہے۔ اور اس سے متاثر بھی ہوئی ہے۔ اس دُنیا کی مجموعی شکل میں اس دُنیا میں بسنے والے سبھی لوگوں کا عقیدہ اور عمل اور اُن کے خواب اور اُن کی آرزوئیں حصہ دار ہیں۔ تاریخ صرف اُن لوگوں نے تشکیل نہیں دی کہ جن کا نام کتابوں میں درج ہے بلکہ اُن لوگوں نے بھی اُس کی شکل و صورت دینے میں حصہ بٹایا ہے کہ جو گُم نام ہیں۔ یہ سارے لوگ گُم نام ضرور ہیں مگر معمولی نہیں۔ اور ان کی اہمیت اس تاریخی عمل میں کسی طور بھی کم نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو بھی زندہ رہا ہے اس نے اپنی زندگی کے اس لمحے کا خصوصی نشان دُنیا کی اس چٹان پر ضرور کندہ کیا ہے۔ جب بھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ہماری انفرادی زندگی اور وجود اس کائناتی عمل میں کس قدر اہم ہے تو مجھے اُس دانشور کی کہانی یاد آتی ہے جو ایک دن ساحلِ سمندر پر چہل قدمی میںمصروف تھا اور پھر  اس  نے ایک غیر معمولی منظردیکھا۔  اس نے دیکھا کہ ساحل پر اس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی ان گنت مچھلیاں بکھری ہوئی ہیں جنہیں سمندری لہروں کی طغیانی نے گہرائی سے سمیٹ کر اس ریتیلے ساحل کی وسعت میں ہر طرف بکھرادیا ہے ۔ پھر اُس نے ایک کم عمر لڑکے کو دیکھا جو ایک ایک کرکے تڑپتی ہوئی ان  ننھی مچھلیوں کو اپنی ہتھیلی پر اُٹھاتا اور اپنے بدن کی پوری طاقت استعمال کرکے انہیں دوبارہ سمندر میں پھینک رہا تھا ۔ دانشور نے چند لمحے اس لڑکے کو مصروفِ عمل دیکھا اور پھر اس نے سوال کیا، ’’یہ تم کیا کررہے ہو؟‘‘ لڑکے نے جواب دیا کہ وہ ان مچھلیوں کو سمندر میں دوبارہ پھینک رہا ہے۔ کیونکہ وہ اگر ایسا نہ کرے تو خشکی میں رہنے کی وجہ سے یہ مچھلیاں مر جائیں گی۔  دانشور نے لڑکے سے کہا ، ’’اگر تم چند مچھلیوں کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک بھی دو تو پھر بھی ہر طرف بکھری ہوئی ان ان گنت مچھلیوں کا کیا ہوگا ؟ تم ان سب کو تو نہ بچا سکو گے۔ تو پھر تمہاری یہ کوشش بے معنی نہیں ؟‘‘ لڑکے نے ایک لمحے کو  دانشور کی طرف دیکھا۔ پھر جھک کر ایک تڑپتی ہوئی مچھلی کو اپنی ہتھیلی پر اُٹھایا اور اُسے سمندر میں پوری طاقت سے پھینکنے کے بعد بولا، ’’اوروں کو فرق پڑے نہ پڑے، مگر اس مچھلی کے لیے میری یہ کوشش زندگی اور موت کا فرق ہے‘‘۔ اس چھوٹے سے واقعے کے بعد وہ دانشور واپس اپنے گھر آیا، مگر باوجود کوشش کے اپنے علمی کام پر توجہ نہ دے سکا۔ اور پھر وہ اپنا سارا اہم کام چھوڑ کر واپس ساحل کے کنارے گیا۔ اور دن بھر اس لڑکے کے ساتھ مل کر ان مچھلیوں کو دوبارہ ریتیلے ساحل سے اُٹھاکر واپس سمندر میں پھینکنے میں مصروف رہا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم مشاہیرِ عالم میں سے ہوسکیں گے یا نہیں۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ ہم میںسے ہر ایک انسان اپنے زندہ ہونے کا اپنے خلق ہونے کاجواز رکھتا ہے.  اور یہ جواز اور مقصد زندگی کے عمل میں مثبت انداز میںحصہ دار بننا ہے—–جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.