بحران ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، نواں انشا Crisis, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 9

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

بحران ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، نواں انشا ، شارق علی
آئیے اب ہم مقصدِ زندگی کی وضاحت کی سمت اگلا قدم اٹھائیں اور زندگی میں اہداف متعین کرنے یا گول سیٹنگ کی اہمیت پر ذرا غور کریں۔ میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک انسان کسی نہ کسی خاص مقصد ، کسی نہ کسی خاص مشن کی تکمیل کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ زندگی کی مقصدیت کو سمجھنا شاید اس وقت بہت آسان ہوجاتا ہے جب ہم کسی بحران سے گزرتے ہیں اور اپنے آپ پر اور اپنی زندگی پر بغور نظر ڈالتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں اور سارے مادی وسائل ہمارے اختیار میں ہوں لیکن ہم زندگی میں معنویت کی کمی کو محسوس کریں۔ ہماری بظاہر خوشحالی اور کامیابی ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرے۔ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟  ہماری تخلیق میں کیا دانشمندی پنہاں ہے؟ ظاہر ہے کہ ان سوالات کے درست جواب ہی زندگی میں معنویت کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں. اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے شاید ٹیری فوکس کی زندگی کی کہانی ایک بہترین مثال ہے۔ ٹیری فوکس ایک کینیڈین نوجوان ایتھلیٹ تھا جس نے شاید انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ مشکل میرا تھون کامیابی سے مکمل کی۔ ۲۶ ؍ میل روزانہ کی دوڑ مسلسل پانچ مہینوں تک . اور اس طرح اس نے تین ہزار تین سو اُنتالیس میل کا سفر بھاگ کر پورا کیا۔  لیکن اس سارے واقعے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹیری فوکس لنگڑا تھا، کینسر کا شکار ایک مریض کہ جس کی ٹانگ کو کینسر ہوجانے کی وجہ سے اس کے جسم سے علیحدہ کرنا پڑا تھا۔ اس کی دوڑ کا مقصد کینسر کی ریسرچ کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا تھا۔ اس کا منصوبہ تو اس امدادی دوڑ میں پورے کینیڈا کو عبور کرنا تھا لیکن جس وجہ سے وہ یہ دوڑ مکمل نہ کرسکا۔ وہ اس کے پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والا کینسر کا دوسرا حملہ تھا۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک لنگڑا آدمی روزانہ ۲۶ ؍ میل بھاگ سکے۔ اور آخر کیوں؟ یہ بات خود اس پر بھی پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی تھی اس لمحے سے پہلے کہ جب وہ کینسر کا مریض بن کر ایک اسپتال میں داخل ہوا۔ ایک مریض کی حیثیت سے اپنی کیفیت دیکھ کر اور اپنے ارد گرد دوسرے مریضوں کا حال دیکھ کر اس کے ذہن میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ اپنی بیماری سے پہلے اُسے کینسر سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ لیکن اسپتال میں قیام کے دوران  وہ اس مرض کی سنگدلی سے واقف ہوا۔اور اس کے دل میں اُبھرنے والے جذبات میں جو جذبہ سب سے غالب تھا وہ تھا غصہ۔ اس کا یہ غصہ خود اپنی بدقسمتی پر نہیں تھا ۔ بلکہ اس کا یہ غصہ اس سنگدل مرض کی سمت میں مرکوز تھا۔ کس طرح یہ بے رحم مرض انسانوں کے جسم کو،  اُن کی خوشیوں اور آرزوئوں کو تہس نہس کردیتا ہے۔ اس کے دل میں اُٹھنے والے جذبات کی لہر اتنی شدید تھی کہ اس نے اسی لمحے یہ فیصلہ کیا کہ اگر وہ مرض سے شفایاب ہوا تو وہ کینسر کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز سے شریک ہوگا،  ایسے وقت میں کہ جب وہ خود بھی اس سنگدلی کا شکار تھا اور جس لمحے وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح بدقسمتی کا رونا رو سکتا تھا۔ مایوسی کے اندھیروں میں کھو سکتا تھا۔ بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن سکتا تھا۔ اپنی زندگی کے اس مایوس ترین اور مشکل مرحلے میں نہ جانے کیا ہوا کہ اس نے زندگی کی معنویت کو تلاش کر لیا.  اپنے زندہ رہنے کے مقصد کو تلاش کرلیا۔ آگاہی کی اس لمحے سے گزرنے کے بعد اس نے جو کچھ کیا وہ بہت حیرت انگیز ہے —– جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.