اضافی سامان سے چھٹکارا ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، پانچواں انشا Excess baggage, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 5

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

اضافی سامان سے چھٹکارا ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، پانچواں انشا 
 اس سے پہلے کہ میں اور آپ عملی طور پر اس ورکشاپ میں مزید آگے بڑھیں اور اپنے ذہنی سفر کو جاری رکھیں ۔ ہمیں اپنے زادِ سفر میں موجود  اضافی سامان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔  اور یہ اضافی سامان ہے ہماری نااُمیدی، ہمارا منفی طرزِ فکر اور غیر ضروری شک اور شبہات۔ اس اضافی بوجھ کو اپنے کاندھے سے اُتار کر ہی ہم ایک آزاد فضا میں محوِ پرواز ہوسکیں گے۔ ہم اُسی قدر آگے جاسکیں گے کہ جتنی ہماری ہمت اور قوت ارادی ہمیں دھکیل سکے گی۔ ہمیں اپنی محدود سوچوں کو بلند تر  رکھنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے وسوسوں اور شک و شبہات سے آگے نکلنا پڑے گا۔ وگرنہ یہ سارے منفی جذبے ہمیں اسی مقام پر مقید رکھیں گے کہ جہاں آج کے اس لمحے میں ہم کھڑے ہیں خوف زدہ اور ہراساں۔ اور خودشناسی کے راستے سے ہوکر کامیابی تک پہنچنے سے گریزاں .  منفی طرزِ فکر کئی صورتیں اختیار کرسکتا ہے۔ بسا اوقات یہ وہ آوازیں ہوتی ہیں وہ باتیں اور جملے کہ جو ہم اپنے ذہن میں خود اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ یا بعض اوقات ایک دوسرے کی ظاہری ہمدردی میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ان میں سے چند جملے مثال کے طور پر میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ مثلاً یہ کہ’’یہ باتیں سُننے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘،’’بھلا لکھی ہوئی تقدیر سے بھی کوئی لڑ سکتا ہے‘‘، ’’ میاں زندگی اب جیسی بھی ہے گزار لو‘‘،’’بھئی میں تو ایک درمیانہ درجے کا کم صلاحیت آدمی ہوں‘‘،’’ایسی باتیں سُن کر فضول دباو اور ذہنی پریشانی میں مبتلا ہونے کا فائدہ؟‘‘، ’’اگر میں اس دفعہ بھی کامیاب نہ ہوسکا تو پھر؟‘‘، ’’اگر یہ سب ممکن ہوتا تو کوئی اور نہ کرچکا ہوتا‘‘۔ ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے اندر اُٹھنے والی آوازوں میں سے اسی نوعیت کے کچھ منفی جملوں کو سُنا ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے رُک جائیے۔اور اپنی نوٹ بُک میں اسی نوعیت کے منفی اور محدود کردینے والے جملوںکو کہ جو اکثر آپ کے ذہن میںاُبھرتے ہیں، لکھئے۔ ذرا سوچیے کہ یہ منفی جملے کہاں سے اُبھرتے ہیں اور کس طرح آہستہ آہستہ یہ اظہارِ رائے اندر ہی اندر اپنا منفی اثر دکھاتا ہے اور بظاہر ہمدردی میں کہے گئے یہ جملے آہستہ آہستہ ہمارا یقین بن جاتے ہیں۔ اور کس طرح ہمیں وہ کچھ کرنے سے روکتے ہیں کہ جو حقیقتاً ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں وہ کچھ ہونے سے روکتے ہیں کہ جو ہم ہونا چاہتے ہیں۔ شاید سب سے بڑی دانشمندی جو ہمارے اختیار میں ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم یہ بات سمجھ جائیں کہ زندگی میں آزادی وہ آزادی ہے کہ جو ہم روز مرہ کے دوران خود اپنی منفی سوچوں سے بلند ہوکر حاصل کرتے ہیں. مگر سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان منفی جملوں کو جو ہمارے ذہن میں گونجتے ہیں، ایک دفعہ دریافت کرلینے کے بعد اور اُنہیں شعوری سطح پر لانے کے بعد فوری طور پر ہم ان کے منفی اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ چاہے یہ منفی سوچیں کسی بھی سمت سے ، کسی بھی مقام سے ہماری زندگی کا حصہ بنی ہوں۔ جب ہم اِنہیں شعوری سطح پر چیلنج کرتے ہیں اور مستقبل میں اپنی کامیابی کی سمت بڑھنے میں اِنہیں اپنی رکاوٹ تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر ان رکاوٹوں کو عبور کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام بھی ہے کہ جہاں ہم میں سے بیشتر لوگ لڑکھڑا جاتے ہیں اور مشکل محسوس کرتے ہیں—- جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.