Sunehri Dor سنہری دور، پانچواں انشا ، سیج ، انشے سیریل Golden era, Sage, Urdu / Hindi Podcast Serial, Episode 5

Discover how  passion for science and free thinking resulted in the rise of muslims in Ninth century in this story

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

سنہری دور، پانچواں انشا ، سیج ، انشے سیریل، شارق علی
کانفرنس ہال سائنس فیسٹیول کی گہما گہمی سے گونج رہا تھا۔ ہر شعبے کے سجے انفرادی اسٹال پر خوش آمدید کہتے استاد، والینٹیئر طلباء اور شرکت کرنے والوں کی پر جوش دلچسپی بہت ولولہ انگیز تھی۔ ہم ریاضی کے اسٹال پر پہنچے تو پروفیسر سلام تعارفی جملے کہہ رہے تھے۔ بولے۔ ریاضی نہ صرف قدروقیمت، معیار اور کیفیت کے باہمی رشتوں جیسے جمع، تقسیم، ضرب وغیرہ سے متعلق مضمون ہے بلکہ یہ ایسی منطقی زبان بھی ہے جو نا معلوم قدروں، معیار اور خصوصیات کی جانب پیش قدمی ممکن بناتی ہے۔ گویا ریاضی کی پہنچ صرف وجود نہیں امکان تک بھی ہے۔ اتنا ہی قدیم مضمون جتنا انسانی شعور۔ پہلا آثارِ قدیمہ ثبوت یوگنڈا سے دریافت ہوئی بیس ہزار سال پرانی ایشانگو ہڈی پر ڈالے حساب دانی کے نشانات ہیں۔ میسوپوٹیمیا اور مصری تہذیب میں زراعتی انقلاب اور خانہ بدوشی کی زندگی ریاضیہی کی مدد سے ختم ہوئی۔ قدیم چین اور ہندوستان کا عروج، یونان کا فکری انقلاب اور نویں سے تیرہویں صدی تک مسلمانوں کا سنہری دور ریاضی ہی کے دم سے تھا۔ سنہری دور؟ کچھ وضاحت اس کی بھی؟ میں نے کہا۔ پروفیسر بولے۔ زمانہ تھا نویں صدی کی ابتداء کا، شہر تھا بغداد اور حکمران عباسی خلیفہ مامون رشید۔ مرکزی مقام دارالحکمہ جسے مغرب ہاوس آف وزڈم کے نام سے جانتا ہے۔ روشن خیالی ایسی کے دنیا بھر کے عالموں اور طالبِعلموں چاہے وہ یہودی، ہندو، عیسائی یا مسلمان ہوں، سب کو تحقیق کے لئے وظیفہ، علمی سہولیات مکالمہ اور مباحث میں فکر و خیال کی آزادی میسر تھی۔ دنیا بھر کا علم، خاص طور پر یونانی علمی نسخوں اور کتابوں کے عربی ترجموں پر مسلسل  کام جاری رہتا۔ علمی اضافوں کے لئے سازگار ماحول اور وسائل مہیا ہو تے۔ دنیا بھر کی زبان و ثقافت اور علمی سرمائے کو گلے لگایا جاتا۔ یونانی، ہندو، فارسی اور شامی فکر کو کھلے دل سے قبول کیا جاتا اور علم اجتماعی انسانی میراث سمجھا جاتا۔اس سے سیکھا، اسے محفوظ کر لیا جاتا۔ ان دنوں پوری دنیا میں دارالحکمہ جیسی وسیع اور متحرک دانش گاہ اور کثیر کتب خانہ کوئی اور نہ تھا۔ ماضی سے استفادے اور مستقبل کی دریافتوں کا یہ زمانہ سنہری دور کہلاتا ہے۔ وجہ دینی تعلیم نہیں تھی، سائنس سے محبت اور روشن خیالی تھی۔ سوفی بولی۔ کوئی مثالی شخص اس دور کا؟ بولے۔ ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات الخوازمی اسی دور کا ہیرو ہے۔ وسط ایشیاء کے علاقے خوارزم سے ہجرت کر کے بغداد میں بسنے والے، جس کی زبان فارسی تھی، نے 813 ع سے 833 ع  تک کیا ہوا اپنا لا زوال علمی کام اس دور کی سائنسی زبان عربی میں شایع کیا۔ ایک غیر معمولی محقق، جس نےہندو اور یونانی علم سے بہت استفادہ کیا اور نئی راہیں نکال کر ریاضی، ٹرگنومیٹری، جغرافیہ اور فلکیات میں بیش قیمت اضافہ کئیے. اس کی منظم اور منطقی سوچ اور طریقہِ کار نے الجبرا کی بنیاد رکھی۔ اس کی کتاب حساب الجبر ول مقابلہ ہی سے لفظ الجبرا نکلا۔ صفر کی علامتی اور آفادی اہمیت اسی نے مغرب پر واضح کی۔ ہندو اور عربی ہندسوں کے استعمال سے ریاضی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ورنہ مغرب کے غیر افادی لاطینی ہندسے موجودہ ریاضی کا ساتھ دے ہی نہیں سکتے تھے۔ سب سے اہم کارنامہ الگورتھم کی ایجاد ہے۔ وہ بنیادی اینٹ جس کے بغیر کمیوٹر کی ایجاد ممکن ہی نہیں تھی۔ الگورتھم دراصل اسی کے نام الخوارزمی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ چشمِ تصور میں لاو کے دارالحکمہ میں ال خوارزمی ستر جغرافیادانوں کے کام کی نگرانی کر رہا ہے اور وہ معلوم دنیا کا پہلا نقشہ تیار کرتے ہیں۔ پھر لا طینی زبان میں اس کی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ اس کا سکھایا ہوا الجبرا مغرب کی یونیورسٹیوں میں سولہویں صدی تک پڑھایا جاتا رہا۔ وہ 845ع  میں دنیا سے رخصت ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.