Saazgar سازگار، سیج ، انشے سیریل، انیسواں انشاء Jahangir Kothari Parade, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 19

One day the vicious cycle of greed will be over in our homeland and honest policymakers will recognise that promoting positive asset building and considering young people as resources is a critical strategy

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

سازگار، سیج ، انشے سیریل، انیسواں انشاء، شارق علی
ہاسٹل کے لان میں املتاس کے گھنے درخت سے فانوس کی طرح لٹکتے پیلے پھولوں کے نیچے بیٹھے ہم سب پڑھ رہے تھے۔ موسم اتنا خوشگوار تھا کے لائبریری جانے کا موڈ نہ بنا ۔ ہوا کا رخ کچھ یوں تھا کہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ دور بیٹھی لیلا اور سوفی کی باتیں سن سکتا تھا۔ لیلا کہ رہی تھی ۔ جہانگیر کوٹھاری پریڈ میں سمندری رخ سیڑھیوں پر بیٹھے میں، دانی اور کراچی کا حسین غروبِ آفتاب بے حد اداس تھے۔ اس پویلین کے پیچھے جہاں پارک ٹاورز  ہیں، خود غرض ٹریفک کی تیز رفتاری کو نہ ہماری اداسی سے کوئی دلچسپی تھی، نا غروبِ آفتاب کے حسن سے۔ وہ تو بس بے حسی اور لالچ کے سیلاب میں بہا جا رہا تھا۔ ہم پر سوال تھے۔ آنے والا کل کامیابی ہے یا مایوسی؟ گفتگو جاری تھی کہ پروفیسر گل جانے کہاں سے  ساتھ ہی گھانس پر آ بیٹھے۔ سوفی نے پوچھا۔ کب بنا تھا کوٹھاری پریڈ؟  پروف بولے۔ جہانگیر ایک امیر پارسی تاجر تھا جس نے کلفٹن کے ساحل پر اپنی زمین اور تین لاکھ روپے دے کر اس فیشن ایبل پیدل گزرگاہ اور آٹھ جہتی پویلین کی تعمیر ممکن بنائی تھی۔ سنگِ بنیاد لیڈی لوئڈ  نے 1920میں رکھا۔ پھر لیڈی لوئڈ پئیر کا افتتاح 1921 میں ہوا۔ اب تو سامنے بڑا سا پارک بھی ہے۔ کلفٹن کی ایک پہاڑی پر واقع گلابی جودھپوری اینٹوں اور گزری لائم اسٹون سے تعمیر شدہ یہ حسین عمارت، کراچی کا تعمیراتی غرور ہے۔ شام ڈھلے حسین روشنیوں سے آراستہ پویلین سے نکلتی پیدل گزرگاہوں پر چلنا رومان انگیز تجربہ ہے ۔ میں نے موضو ع بدلا اور کہا ۔ ہم نوجوانوں کے ارد گرد کی دنیا ہماری آرزوں سے اتنی بے حس کیوں ہوتی ہے؟ بولے۔ پچھلے سو سال انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ تبدیلیوں کا عرصہ ہیں۔ بیرونی تبدیلیوں نے انسانی ذمہ داریوں، حقوق اور توقعات میں انقلاب برپا کیا ہے۔ ہم اس انقلاب سے پوری طرح نمٹ نہیں پائے ہیں ابھی۔ لیلا بولی۔ تو پھر نوجوانوں کی بقا اور ترقی کی بنیاد کیا ہونی چاہئیے؟ بولے۔ امریکی نفسیات دان  ابراہام ماسلو نے صحت مند افراد کی زندگی کے مشاہدے کو بنیاد بنا کر انسانی بقا اور ترقی کی بنیاد ضرورتوں کا پورا ہونا قرار دیا تھا۔  ہر فرد اور معاشرے کی خوشی اور اطیمنان انہی ضرورتوں کی تکمیل سے حاصل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے جسمانی ضرورتیں مثلاً غذا، لباس اور گھر۔ پھر جذبانی ضرورتیں مثلاً قرب، قبولیت، محبت اور کسی گروہ کی حصہ داری۔ اپنی قابلیت، اہلیت اور ماحول میں تحفظ کا احساس۔ سازگار معاشرہ وہ ہوتا ہے جو ایسی سہولتیں مہیا کر سکے جن میں توازن، تنظیم اور حسن موجود ہو۔ ایسے معاشرے میں رہنے والے اپنی صلاحیتوں کے بھر پور امکانی وجود تک  اور اس کی  آگاہی تک پہنچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں ایک تڑپ ہوتی ہے اونچا اٹھنے کی، اپنی صلاحیتوں کو بامِ عروج تک پہنچانے کی. محفوظ دنیا سے نکل کر انجانی منزلوں کی سمت سفر کرنے کی۔ فضا سازگار نہ ہو اور اچھے استاد مہیا نہ ہوں تو مجرم نظریات اور ماحول اسی نوجوان تڑپ کو دہشت گرد اور خود کش حملہ آور بھی بنا سکتا ہے۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.