Nathiagali Ka Daira نتھیا گلی کا دائرہ ، سیج، انشے سیریل، بیسواں انشاء Nathiagali, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 20

Professor Gill talks about the learning cycle he went through during his visit to the alluring hill station town of Nathiagali in Pakistan

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

نتھیا گلی کا دائرہ ، سیج، انشے سیریل، بیسواں انشاء، شارق علی
سوکھی لکڑیاں الائو میں پھینکی جاتیں تو شعلوں کی لپک ماحول کو مزید دلکش بنا دیتی۔ فہم آباد کے قریب واقع اس پہاڑی گیسٹ ہائوس کے بیرونی لان سے نظر آتے خوبصورت جنگل اور سبزہ زار تاریکی میں ڈوب چکے تھے۔ آثارقدیمہ کی تھکا دینے والی دن بھر کی مطالعاتی مصروفیت اور رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ہم الائو روشن کیئے قہوہ پی رہے تھے۔ سوفی بولی۔ آپ کا نتھیا گلی کچھ ایسا ہی ہے کیا؟ پروفیسر بولے۔ کہاں ہمالیہ کا عظیم سلسلہ اور کہاں یہ ہلکی پھلکی اونچائیاں۔ ایبٹ آباد سے مری کی طرف جاتی بل کھاتی سڑک پر کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے نتھیا گلی۔ اونچے پہاڑوں کی ڈھلانوں میں لگے پائن، سیڈر، اخروٹ اور میپل کے گھنے جنگل اور  جا بجا بکھرے دلکش سبزہ زار۔ سامنے نظر آتیں میرن جانی اور مشکپوری کی چوٹیاں۔ مختصر آبادی، چھوٹا سا بازار۔ مری جیسا گنجان تو نہیں لیکن قدرتی حسن سے مالا مال۔ ریسٹ ہائوس، ہوٹل اور ضرورت کی اشیاء موجود۔ انگریز نے گرمیوں کے تحصیل ہیڈ کوارٹر کے لحاظ سے ترقی دی تھی اسے۔ پرانا ریکارڈ بتاتا ہے ۱۹۰۳میں ٹیکس وصولی لگ بھگ تین ہزار اور اخراجات ۱۹۰۰ روپے تھے۔ گرمی میں خوشگوار ٹھنڈک اور دھند۔ بارش تقریباً روز ہی۔ جاڑوں میں شدید برفباری۔ گھومنے، پھرنے اور سیکھنے کو بہت کچھ ہے وہاں۔ رمز بولا۔ گھومنا پھرنا تو ٹھیک، یہ سیکھنا کیسا؟ بولے۔ سیاحت وہ تجربہ ہے جو علم اور صلاحیت دونوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ہم تجربات ہی سے سیکھتے ہیں۔ پہلے ہم کوئی عمل کرتے ہیں۔ پھر کیئے ہوئے عمل اور اس کے نتائج کا مشاہدہ۔ پھر اس مشاہدے اور نتائج پر گہرا غور وفکر ہمیں آئندہ کے لئے حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ یوں ہم آگے بڑھ کر اگلا عمل کرتے ہیں۔ گویا عمل، مشاہدہ، غور و فکر اور مستقبل کی حکمت عملی ایک دائرہ وار سلسلہ ہے۔ سیکھنے کے اس دائرہ وار کی نشاندہی امریکی ماہر تعلیم ڈیوڈ کولب نے کی تھی۔ سیکھنا ایک فطری عمل ہے۔ کچھ انسان سیکھنے کے مکمل دائروں کے تیز اور کامیاب سفر میں زندگی گزارتے ہیں۔ کچھ نا مکمل دائروں میں بھٹکتے ہوئے ایک سی غلطیاں بار بار دہراتے ہیں۔ پھر کیا سکھایا نتھیاگلی کے دائرے نے؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ قدرتی حسن اور انسانوں سے پیار۔ ٹریکنگ کا شوق ٹھنڈیانی کو جاتے خوبصورت راستے پر لے نکلا  جو ڈگری ناکہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ انگریز زمانے کا مقامی لکڑی سے تعمیر شدہ سینٹ میتھیوز چرچ بھی دیکھا جو پہاڑ کنارے کشمیر کا رخ کیئے ہوئے ہے۔ راستے میں حسین پرندے، تتلیاں اور جنگلی بندروں کے غول ملے۔ ہندکو بولتے سیدھے سادھے پہاڑی لوگوں سے ملاقات ہوئی جن میں سے بیشتر کے نام کے ساتھ عباسی لگا تھا۔ ان دنوں سوچ لالچ یا مذہبی شدت پسندی سے زخمی نہ تھی۔ اور سیکھنے کا انداز؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ ہم سب کے سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کچھ صورتحال کو اونچی پہاڑی پر کھڑے مشاہدے اور غور و فکر کی مکمل تصویر بنا کر جانچتے اور سیکھتے ہیں، کچھ اکھاڑے کی مٹی میں لت پت ہو کر، صورتحال کے شانے سے شانہ بھڑا کر۔ میرے رائے میں خیال اور عمل کا اشتراک سب سے بہتر راستہ ہے۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *