Kiwi کیوی، سیج، انشے سیریل، بارہواں انشاء Kiwi, Sage, Urdu / Hindi Podcast Serial, Episode 12

Enjoy the beauty of a volcanic land that has now become a modern secular democracy with freedom of expression and religion

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

کیوی، سیج، انشے سیریل، بارہواں انشاء، شارق علی
ہاکی میچ سے پہلے پوری ٹیم نے ٹم کا سکھایا ہوا ہا کا کیا۔ جنگ سے پہلے دشمن کا دل دہلا دینے والا قدیم مائوری رقص۔ خوب تالیاں بجیں۔ جیت کے بعد ڈریسنگ روم میں پہنچے تو رمز نے کہا۔ تم تو انگریز نیو زیلینڈر ہو ٹم، یہ ہا کا کہاں سے سیکھا؟ بولا۔ میرے شہر آکلینڈ کی اٹھائیس فیصد آبادی مائوری ہے۔ چہرے پر بنے دھاری دار ٹیٹو اور ہا کا سے شناسائی بچپن ہی  سے ہے۔ مائوری دوست مجھے آہورا کہتے ہیں یعنی محبت۔ کون ہیں یہ مائوری؟ میں نے پوچھا؟ بولا۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے بحر الکاہل کے جزیروں میں بسنے والے پولینیزین لوگ جو مائوری کہلاتے ہیں، کشتیوں میں سوار وہیل مچھلیوں کا تعاقب کرتے ہوے نیو زیلینڈ پہنچے تھے۔ پھر وہ وہیں آباد ہوگئے۔ کئی صدیوں کی تنہائی نے انہیں منفرد زبان اور داستانی ادب، رقص و موسیقی، زراعتی اور جنگی مہارت کے سبب مستحکم ثقافتی پہچان بنا دیا ۔ کتنا قدیم ہے تمہارا ملک؟ رمز نے پوچھا۔ بولا۔ یہ دو سو تیس لاکھ سال پہلے سمندر سے  آتش فشانی کے سبب ابھرا تھا۔ قطب جنوبی اور شمالی کہ چھوڑ کر سب سے آخر میں آباد ہونے والا خطہ زمین ہے یہ۔ کئی درجن آتش فشاں آج بھی موجود ہیں یہاں ۔ لیک ٹائپو جو سنگاپور جتنی بڑی جھیل ہے، آتش فشانی ہی کا نتیجہ ہے۔ جنوبی اور شمالی دو بڑے جزیرے اور بیچ سے گزرتی سمندری پٹی جو کک اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ بہت سے چھوٹے جزیرے بھی جو آج تک غیر آباد ہیں۔ علاقہ اتنا وسیع جتنا برطانیہ لیکن آبادی صرف پینتالیس لاکھ اور ہر تیسرا شخص آکلینڈ میں آباد۔ اور تاریخ؟ میں نے پوچھا۔ بولا۔ مائوری ۱۰۰۰ ص ع  میں سب سے پہلے پہنچے پھر ڈچ مہم جو ابیل تسمن آیا جس نے اس علاقے کو ڈچ نام نیو زیلینڈ دیا۔ برطانوی مہم جو جیمز کک ۱۷۶۹ میں پہنچا اور علاقے کے تفصیلی نقشے بنائے۔ شروع کی جنگوں کے بعد، ۱۸۴۰ میں مائوری قبائل سے مساوی حقوق کا معاہدہ طے پایا اور ہم برطانوی نو آبادی بنے. ۱۹۴۷ میں خود مختاری ملی۔ دیکھنے کو کیا ہے وہاں؟ ایرک نے پوچھا۔ بولا۔ حیران کن مناظر، دل موہ لینے والے تہوار، لذیذ کھانے ، خوش مزاج لوگ۔ قسما قسم کے پھول، سانپوں سے پاک جنگل اور ثقافتی رنگا رنگی۔ سائیکل پر گھومو، مچھلیاں پکڑو، پہاڑ سر کرو یا لمبی چہل قدمی۔ مایوس نہیں ہو گے تم۔ انتہائی جدید اور سیکولر جمہوریہ جس میں آزادی رائے اور مذہب کی مکمل آزادی  ہے۔ رگبی، کرکٹ، اسکینگ اور فٹبال کے رسیا لوگ ۔ ایک ہی دن میں تیزی سے بدلتا موسم  لیکن زیادہ تر معتدل۔ لارڈ آف دی رنگ اور ہوبٹ میں دکھائے گئے سحر انگیز مناظر اس کی حسین جھلک ہیں۔ ۱۸۹۳ میں ہم پہلا ملک تھے جس نے عورتوں کو ووٹ کی آزادی دی۔ حیرت انگیز ایلپائن طوطے اور پرواز سے محروم کیوی۔ مکھن اور پنیر کی بر آمد بے حد منافع بخش۔ آبادی کے تناسب سے ایک آدمی پر نو بھیڑیں اور دنیا میں سب سے زیادہ گولف کورس اور کتابوں کی دکانیں۔ لوگ کیوی کیوں کہتے ہیں تمہیں؟ رمز نے پوچھا۔ بولا۔ کیوی پھل بھی ہے اور نہ اڑ سکنے والا پرندہ بھی۔ لیکن عموماً اس سے مراد مجھ جیسے نیو زیلینڈرہوتے ہیں. بہت خوش کن لقب یہ ۔ اور تمہارا شہر آکلینڈ؟ میں نے پوچھا۔ بولا۔ ویلینگٹن اور کرائسٹ چرچ بھی بڑے شہر لیکن آکلینڈ سب سے بڑا۔ ماونٹ ایورسٹ والے ایڈمنڈ ہیلاری بھی وہیں کے ہیں۔ پانچ ڈالر کے نوٹ پر تصویر ہے ان کی۔ صرف سولہ کلو میٹر فاصلے پر ایک طرف بحرالکاہل، دوسری طرف بحر تسمان۔کشتی رانوں کی جنت ہے یہ جدید سہولتیں، خوش حال  لوگ۔ ۔ اوٹارا مارکیٹ یا سالانہ پیسیفیکا تہوار میں مائوری ثقافت کا لطف بھی اور جدید شہری سہولتوں کے مزے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.