Karobar e Khushi کاروبار خوشی، سیج، انشے سیریل، بایسواں انشاء Business of joy, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 22

He said busking in London is my bread and butter.  Guitar in my hands, a song on my lips and a happy crowd all around me is my business of joy

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

کاروبار خوشی، سیج، انشے سیریل، بایسواں انشاء، شارق علی
ایوسٹن کے زمین دوز اسٹیشن کی آتے جاتے مسافروں سے مصروف سرنگ رولنگ اسٹون کی مشہور دھن انجی سے گونج رہی تھی۔ سفید بال  ، عمر رسیدہ لیکن تروتازہ برطانوی نقوش، بوسیدہ جینز، کالے اوورکوٹ اور سیدھی کمر والے بسکر کی پر سوز آواز ، گٹار پر مہارت اور پورے ماحول میں بسے آہنگ نے میرے قدم تھام لئے۔ پروفیسر گل لندن کا ذکر کر رہے تھے۔ بولے۔ کچھ سکّے ہیٹ میں ڈال کر میں پاس ہی کھڑا رہا۔ دھن تمام ہوئی تو قریبی ریستوران میں چائے پینے کی دعوت پر وہ کھل اٹھا۔ سینڈوچ اور گرم کوفی سے تواضع نے رہی سہی برف بھی پگھلا دی۔کہنے لگا. یورپ کے سب سے بڑے شہر کے کوچہ و بازار اور بیچ سے گزرتا تھیمز میرے سنگی ساتھی ہیں اور دریا کے کناروں پر تیرتے راج ہنس میرا خاندان۔ رچرڈ شیر دل نے قبرس سے لا کر آباد کیا تھا انہیں بارہویں صدی میں۔ آج بھی یہ شاہی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ شاہی ہرکارے حساب رکھتے اور دیکھ بھال کرتے ہیں ان راج ہنسوں کی۔ لیکن ہم غریب موسیقار کسی شمار قطار میں نہیں۔ ۱۸۲۹ میں دنیا کا پہلا چڑیا گھر اور تین بار اولمپک منعقد کرنے والا دنیا کا واحد شہر ہے لندن۔ میری طرح بہت سے دکھ سہے ہیں اس شہر نے بھی ۔ پہلے رومن قابض ہوئے پھر سیکسنز  نے تباہی کی تاریخ رقم کی۔ صدیوں یہیں میرے اجداد قرون وسطی کے اندھے قوانین سہتے رہے۔ دوسری جنگ عظیم کی جرمن بمباری سے تیس ہزار ہلاکتیں اور سینکڑوں عمارتوں کی تباہی تو ابھی حال کا قصہ ہے۔ اور آپ کا بچپن؟ میں نے پوچھا۔ بولا۔ کوئی پانچ برس کا تھا جب ۱۹۵۲ کے دسمبر کی شدید سردی میں اعلی معیار کا کوئلہ تو منافع کے لئے درآمد کر دیا گیا اور غریب گھروں اور کارخانوں میں گھٹیا کوئلے کے بے دریغ استعمال کی کثافت اور قدرتی دھند نے چار دن تک لندن کا آسمان سیاہ دھویں سے ڈھا نکے رکھا۔ اسٹیج شو ملتوی کرنا پڑے۔ اندھیرا اتنا کہ تماشائی اداکاروں کو دیکھ نہیں پاتے تھے۔ ہسپتال سانس کی بیماری کے مریضوں سے بھر گئے۔ بارہ ہزار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان ہی میں میری ماں بھی تھی۔ ملکہ نے چرچل سے احتجاج کیا تو ایسے قوانین بنے کہ دوبارہ ایسا نہ ہوا۔ ان سرنگوں میں اداس دھنیں بجانا آج بھی ماں کی یاد دلاتا ہے۔ دنیا کی یہ پہلی زیر زمین ریلو ے ۱۸۶۳ میں تعمیر ہوئی تھی اور آج بھی رواں دواں ہے۔ گزر بسر کیسی ہے آپ کی؟ میں نے پوچھا . بولا۔ ہو سکتا ہے بہت سے ہوں، لیکن نہ تو میں نے بے گھر ہوں، نہ ہی کسی نشے کا عادی۔ میوزک ڈگری رکھنے والا ایک پینشن یافتہ ہوں جو حقارت اور گھٹیا رویوں پر کڑھنا چھوڑ چکا ہے۔ ان زمین دوز گلیوں میں بہت سے نوجوان لفنگے خود کو گینگسٹر سمجھ کر مجھ پر آوازیں کستے اور کوڑا  پھینکتے ہیں۔ میں سر جھکائے نظر انداز کر دوں تو بے مزہ ہو کر دفان ہو جاتے ہیں۔ اصلی گینگسٹر  بھی ہیں یہاں لیکن ان کی مصروفیت تو کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ زندگی مشکل ہے، گھنٹوں کھڑے رہ کر گٹار بجانا آسان نہیں۔ کمر اور ہاتھوں میں درد، انگلیوں میں زخم روز کا معمول ہے۔ مناسب وقفوں سے آرام اور اچھی غذا اب تک مضبوط رکھے ہوئے ہے۔ پہلے دن گھنٹے بھر گٹار بجایا تو واحد ٹپ ٹوٹا ہوا بٹن تھا۔ سب سے اچھا وقت کرسمس کا ہوتا ہے۔ بیشتر لوگ مناجات سن کر ٹپ دینے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات کئی مہینے تنگ دستی میں گزرتے ہیں۔ ہم بسکرس مقابلے کے بجائے مدد پر یقین رکھتے ہیں۔ بے یقینی اور مشکلات انسانوں کو جوڑ دیتی ہیں۔ زیادہ آمدنی والے مقام کا ساجھا کر لینا عام سی بات ہے۔ کچھ مطلب پرست تو ہر گروہ میں ہوتے ہیں۔ سیکھا کیا اس زندگی سے آپ نے؟  بولا۔ یہ راز کہ دوسروں کو خوشی دینا دولت کمانے سے زیادہ اہم ہے۔ ان لوگوں کے درمیان رہنا جو صرف موسیقی کی ڈور سے بندھے میری طرف چلے آئیں مسرت دیتا ہے مجھے. مجھے تو اس اکثریت سے بھی پیار ہے جو نظر انداز کر کے گزر جاتی ہے۔ مبہوت، مسکراتے، ٹپ سے نوازتے، یا بے نیاز گزرتے سب چہروں میں بسی روشنی ہی میری اصل کمائی ہے۔ میں موسیقی نہیں خوشیوں کا کاروبار کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.