Hero ہیرو، سیج، انشے سیریل، اٹھارواں انشاء، شارق علی My Hero Carl Sagan, Sage, Urdu / Hindi Podcast Serial, Episode 18

Youth of 80s were fascinated by TV Serial Cosmos and its creator, presenter and space scientist Carl Sagan. The hero and superb role model for the science enthusiasts

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

                ہیرو، سیج، انشے سیریل، اٹھارواں انشاء، شارق علی،
ان دنوں نو جوان ذ ہنی تنگ نظری سے مفلوج نہ  تھے۔ نئی فکر کو قبولیت میسر تھی۔ اسی کے دہے میں ٹی وی پر دکھائی جانے والی مشہورِ زمانہ  سیریز کاسموس کا خوب رو، خوش لباس اور ذہین آنکھوں والا میزبان، لکھاری اور عالمی شہرت یافتہ خلائی سائنسدان کارل سیگن ہم نوجوانوں کے دل میں بسی کچھ کر دکھانے کی آرزو کی روشن تجسیم تھا۔ پروفیسر گل اپنا لڑکپن یاد کر رہے تھے۔ سوفی نے کہا۔ خلائی سائنس کی ابتداء کب ہوئی پروفیسر؟ بولے۔ آسٹرونومی سب سے قدیم  علم ہے۔ سورج، ستاروں اور سیاروں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ اور پیش گوئی کرنے والے قدیم مذہبی رہنما در اصل پہلے سائنسدان تھے۔ دنیا دو ہزار سال تک تو  انسانی آنکھ کے مشاہدہ سے بنے یونانی کائناتی تصور کے زمین کائنات کا مرکز ہے سے بالکل مطمئن رہی۔ پھر کوپر نیکس کے علمی مشاہدات نے سورج کی مرکزی حیثیت ثابت کر کے انقلاب برپا کر دیا۔ کچھ ہی لوگوں نے اس کا یقین کیا . گلیلو ان میں شامل تھا۔ گلیلو نے اپنے بنائے ٹیلی اسکوپ سے آسمان پر نگاہ ڈالی تو نہ صرف یہ بات سچ نکلی بلکہ دریافتوں کا پنڈ ورا باکس کھل گیا۔ چاند کی سطح پر گڑھے، چاندنی دراصل سورج کی منعکس روشنی ہے ، جوپیٹر کے چار چاند اور وینس کی بدلتی کیفیات۔ اس نے تو تہلکہ مچا دیا۔ زمین کی مرکزی حیثیت ختم کرنے کے جرم میں کیتھولک چرچ نے اسے اپنے ہی گھر میں قید اور ایزا رسا نی کے آلات دکھا کر خاموش تو کر دیا لیکن حقائق بے حد ضدی نکلے۔ ہیرو کیوں تھا کارل سیگن آپ کا؟ میں نے بات بدلی۔ بولے۔ عالمی سطح کا سائنسدان، لکھاری، دانشور اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف موثر سماجی کارکن جو خلا میں ذہانت کے امکان کا کھوجی تھا، بھلا کیوں نہ ہوتا ہمارا ہیرو؟ 1934 میں نیو یارک کے علاقے بروکلین میں پیدا ہونے والے نے شکاگو اور ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ ناسا کے لئے کام اور کو رنیل یونیورسٹی کی پروفیسری کی۔ ایک نا ول، کئی کتابیں، سائنسی مقالے اور ٹی وی سیریز ، کا سموس اور اس کا سیکوئیل پیل بلو ڈاٹ لکھی۔ بچپن کیسا تھا اس کا؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ پانچ سال کا تھا تو ماں کی ہدایت پر لائبریری میں ستاروں کے متعلق کتاب ڈھونڈنے نکلا۔ سات سال کی عمر میں عالمی سائنسی میلے اور پلپ میگزین میں چھپی اڑن طشتریوں کی کہانیوں سے شروع ہوا تجسس پوری عمر ساتھ رہا۔ صرف تیس سال کی عمر میں سائنسدان، دانشور اور ٹی وی پریز ینٹر کی حیثیت سے عوامی مقبولیت ملی۔ بین الکائناتی پرواز ہو یا ہزاروں سال پہلے خلائی مخلوق کے زمینی دورے کا امکان ہو،  یا کانگریس کے سامنے وینس کو انسانی رہائش کے قابل بنانے کی تجویز، یا اسپیس اوڈیسی نامی فلم میں ماہر کی حیثیت سے معاونت، اسے پوری دنیا میں ہر دل عزیزی ملی۔ اس کی کتاب ذہانت کے ارتقاء نے پولیٹزر انعام جیتا ۔ 1980 میں اس نے بین الاقوامی پلا نٹری  سوسائٹی قائم کی۔ اور یہ سب کارنامے صرف باسٹھ سالہ مختصر زندگی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.