Qanoon say ooper قانون سے اوپر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اٹھاسیواں انشا Magna Carta, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 88

In developing world setting, the ruling class is still treated as above the law. Mamdu learns about Magna Carta, the most celebrated document in human history that protects human rights

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

قانون سے اوپر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اٹھاسیواں انشا، شارق علی
منشی نے دور تک پھیلے کھیتوں اور کام کرتے ہاریوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا. سب سائیں سرکار کی ملکیت. ہم گھوڑوں پر سوار امرود کے باغ کی طرف چلے تو بولا. پٹواری، تھانے دار، ڈاکٹر اور اسکول ماسٹر کون ہے جو حویلی پر سلام کرنے نہیں آتا. قانون سائیں کی جوتی اور سائیں قانون کے سرکا تاج. انکل پٹیل سائیں تقی کی زمینوں سے کل ہی لوٹے تھے. بولے. لگتا تھا اکیسویں صدی کے دیہات میں نہیں ٨٠٠ سال پہلے کے انگلستان میں ہیں. وہ کیسے؟ میں نے پوچھا. بولے. ان دنوں نوے فیصد انگریز دہقان تھے اور زمین جاگیرداروں یعنی لارڈز  کی. فصل میں دونوں حصّے دار. کنگ جون بادشاہ تھا، اس لئے اس کا ٹیکس دینا سب پر لازم. کنگ کے غلط فیصلے مثلاً بیکار کی جنگ اور بد انتظامی نے ٹیکس میں بے حد اضافہ کر دیا. دادا جی نے بات آگے بڑھائی . ١٢١٥ میں لوگ دانے دانے کو محتاج اور ظالمانہ ٹیکس کی ادائیگی کے قابل نہ رہے تو سرکاری سپاہیوں نے کھڑی فصلوں، لارڈز  کی حویلیوں ، سبزیوں سے لدی گھوڑا گاڑیاں اور زمینوں پر لگے جنگل کاٹ کر لکڑی پر قبضہ کرنا شروع کر دیا. تنگ آ کر عوام، لارڈز ، پادری اور بہت سے درباریوں نے بغاوت کر دی اور لندن پر قابض ہو گئے. کنگ کسی صورت سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر لندن کو کھونا نہیں چاہتا تھا. وہ سرے کاؤنٹی کے مقام رنیمیڈ پر باغیوں کے تحریر کردہ چارٹر میگنا کارٹا پر دستخط کرنے کے لئے راضی ہو گیا. آپ نے تو دیکھا ہے رنیمیڈ. کیسا ہے وہ؟ میں نے پوچھا. بولے. گھاس کے میدان اور دور تک پھیلے جنگلوں میں بکھری جھیلیں ہیں وہاں اور کئی تاریخی یادگاریں بھی. ان ہی میں کچھ ستونوں پر کھڑی چھوٹی سی گنبدنما انسانی آزادی اور جمہوریت کی علامت میگنا کارٹا کی پر وقار یادگار بھی ہے جہاں سے دریاۓ تھیمس کو دیکھا اور انسانی آزادی کے مسلسل سفر پر غور کیا جا سکتا ہے. لکھا کیا تھا میگنا کارٹا میں؟ میں نے پوچھا. یا نی آپا بولیں. بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بادشاہ سمیت معاشرے کا کوئی بھی فرد ملکی قانون سے بلا تر نہیں. قانون کی پاسداری بادشاہ، امیر اور  غریب سب پر لازم ہے  اور جرم کی سزا سب کے لئے مساوی. یوں عام آدمی کے حقوق کو حکمرانوں اور با اثر لوگوں سے محفوظ کیا گیا تھا. اس دستاویز نے پہلی بار سب انسان مساوی کے اصول کو قانونی شکل دی تھی. مثلاً اس کی ایک شق کہتی ہے کہ ہر انسان کی آزادی، حقوق اور جان و مال محفوظ ہوں گے جب تک کہ ملکی قانون اس کے بر خلاف فیصلہ نہ دے. میگنا کارٹا نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئیے ہیں. مثلاً امریکا کی برطانوی تسلط سے آزادی میں اس دستاویز کی حیثیت بنیادی تھی. اس کے بغیر امریکا جمہوریت بن ہی نہیں سکتا تھا……جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.