Nou Umr Karachi نو عمر کراچی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکیاسیواں انشا Juvenile Karachi, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 81

Young Jinnah and juvenile Karachi shared a dream of a country where people of all caste, creed, race, religion and gender would co exist peacefully without any bias. Is the dream alive?

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

نو عمر کراچی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکیاسیواں انشا، شارق علی
بحری جہاز میں شہر سے رخصت ہوتے وقت چارلس نیپیئر  نے کہا تھا. اے کاش کبھی واپسی ہو اور میں تمہاری عظمت کا عروج دیکھ سکوں. انکل پٹیل نو عمر کراچی کو یاد کر رہے تھے. بولے. مچھیروں کی بستی شہر تب بنا جب انگریز کی دور رس نگاہوں نے فوجی اور تجارتی بندرگاہ کی اہمیت بھانپ کر نیپیئر کی قیادت میں میونسپل قائم کی اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ خرچ کیا. پھر آبادی بھی تیزی سے بڑھی. ١٨٥٧ کی جنگ آزادی میں یہاں مقیم اکیسویں نیٹیو انفنٹری نے بغاوت کی تھی لیکن انگریز نے جلد ہی اسے کچل دیا. ١٨٦٤ میں پہلا ٹیلیگرام اور ١٨٧٨ میں ریلوے کا نظام آیا. میری رائے میں سب سے تاریخ ساز لمحہ ١٨٧٦ میں قائد کی اس شہر میں پیدائش ہے. کیسا ہنستا بستا شہر تھا کراچی بیسویں صدی کے شروع میں. آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ. کلفٹن کے ساحل کی نرم ہوا کا ہاتھ تھامے جہانگیر کوٹھا ری پریڈ پر چہل قدمی سے دل اوبھ جائے تو لمبی سیر کرتے فریئر حال کے حسن کو سرہاتے ہوے الفی کی فیشن ایبل دکانوں کے پاس سے گذرتے ہوۓ ایمپریس مارکیٹ چلے جائے. شام ڈھل رہی ہو تو نیٹیو جیٹی کے پل سے بندرگاہ کی سمت اڑتے آبی پرندوں کا سحر انگیز نظارہ کیجئے. جی چاہے تو چاندنی رات میں سینٹ پیٹرک چرچ کی عمارت سے سرگوشیوں میں دل کی بات کہئے. ١٨٨١ میں بنے گوتھک طرز کے اس چرچ میں پندرہ سو لوگ ایک ساتھ عبادت کر سکتے ہیں. بیرونی عمارت بہت سجی ہوئی تو نہیں لیکن کچھ فاصلے سے دیکھو تو بھرپور رومانوی تاثر ہے اس میں. ساری آرائش اور کاریگری اندرونی عمارت میں نظر آتی ہے. کشادہ ہال اور سامنے دور سے نظر آتا رسومات کے لئے بنا الٹار . دیواروں پر آئل پینٹ اور رنگین شیشوں سے سجی کھڑکیاں. ١٩٧٨ میں سو سالہ سالگرہ پر خصوصی ٹکٹ جاری ہوا تھا اور مدر ٹریسا  کا استقبال بھی کیا ہے اس نے. وہی چرچ نہ جہاں ١٩٩٨ میں عبادت ختم ہونے کے چند منٹ بعد بم کا دھماکہ ہوا تھا؟ میں نے پوچھا. بےحد اداس ہو کر بولے. ہاں وھی. قائد کے نو عمر کراچی میں مسجدیں، مندر، چرچ سب موجود تھے اور برابر سے قابل احترام . ہندو، مسلم، عیسائی ہاتھ میں ہاتھ تھامے خوش باش شہری تھے یہاں کے. اپنی گیارہ اگست کی تقریر میں قائد نے دو ٹوک الفاظ میں سب کو برابر کا شہری اور ریاست کو مذہب سے آزاد قرار دیا تھا. قائد کا دیا یہ اصول ہی امن بحال کر سکتا ہے یہاں. دادا جی بولے. یاد رکھنا ممدو  ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے اور مساوی حقوق اور احترام کا حقدار. اگر ہم عقل رکھتے ہیں اور ہمارا ضمیر زندہ ہے تو ہم سب قدرتی طور پر ایک دوسرے کو بالکل اپنے جیسا سمجھیں گے اور عالمی انسانی حقوق کا احترام کریں گے. یانی آپا بولیں. نفرت ایک بد صورت اور مکروہ عمل ہے ممدو. محض تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے ہم اقلیت سے اس کی شناخت اور آزادی رائے کا بنیادی حق نہیں چھین سکتے. کوئی فلسفہ،عقیدہ، یا نظریہ سچا ہو ہی نہیں سکتا اگر وہ نفرت کا پرچار کرے. نسل،قومیت، مذہب، زبان یا ثقافت، بنیاد چاہے کچھ بھی ہو………..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.