Dilli O Dilli دلی او دلی، دادا اور دلدادہ انشے سیریل، چھیترواں انشاء Delhi oh Delhi, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 76

Delhi is the capital of various kingdoms and empires for centuries and has been captured, ransacked and rebuilt several times. Taste the richness of culture in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

دلی او دلی، دادا اور دلدادہ انشے سیریل، چھیترواں انشاء، شارق علی
رات گئے دلی کے محلہ وسنت گنج میں واقع ناتھ گیسٹ ہاؤس پہنچے تو تھکن اور نیند سے برا حال تھا۔ کپڑے بدلے اور بستر میں۔ چڑیوں کی چہچاہٹ نے جگایا تو کمرے سے نکل کر بر آمدے اور پھر باغ میں آیا۔ صبح کی کرنیں گھاس پر پڑی شبنم کو جھلملا رہی تھیں۔ ایک ایکڑ پر پھیلے برطانوی طرز کے اس گیسٹ ہاؤس کی کیاریاں پھولوں اور اگائی ہوئی سبزیوں سے لہلہا رہی تھیں۔ باغ کے بائیں طرف غالبا ًمغل دور کا آم کا درخت تھا۔ جس کی شاخوں پر چھوٹے بڑے لاتعداد طوطے بیٹھے چہچہا رہے تھے۔ انکل پٹیل انڈیا کی راجدھانی کو یاد کر رہے تھے۔ بولے۔ فضاء میں لیموں اور مرچ کی مہک تھی۔ ایک طرف سوئمنگ پول بھی موجود۔ باغ کی سیر کے بعد چھولے بھتورے کا ناشتہ کیا اور دوپہر کے لئے وہیں کی اگی آلو گوبھی کی سبزی کا آرڈر دیا۔ جوگر پہنے اور چند گلیوں سے گزر کر لودھی گارڈن سیر کو پہنچ گئے۔ دونوں جانب کہنہ سال درختون کی قطاریں جیسے صدیوں کی تاریخ شاخوں میں چھپاے ہوئے ہوں۔ صفدر جنگ کا مقبرہ اور خان مارکیٹ بھی نزدیک ہی تھی مگر فرصت نہ مل سکی۔ انڈیا گیٹ کوئی میل بھر دور۔ چاندنی چوک دیکھا آپ نے؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ پرانی دلی کے قدیم بازار کو جیسا سوچا تھا اس سے مختلف پایا۔ فصیل بند دلی کا مرکزی مقام تھا یہ کسی زمانے میں۔ شاہ جہاں کی بیٹی جہاں آراں نے سولہ سو پچاس میں کس چاؤ سے چو کور تعمیر کروائی تھی اس بازار کی جس میں پندرہ سو دوکانیں تھیں۔ زیادہ تر چاندی کے برتن اور زیورات کی۔ شاید اسی لئے چاندنی چوک کہلایا ہوگا یہ۔ چاندی کا استعمال کب شروع ہوا دادا  جی؟ میرے ذہن نے کروٹ بدلی۔ دادا جی بولے۔ کانسی کے دور ہی سے چاندی کی بنی چیزوں کے آثار بھی ملتے ہیں۔ یورپ اور مغربی ایشیاء میں با آسانی دستیاب تھی یہ دھات۔ مشکل یہ تھی کہ چاندی اور لیڈ ایک ساتھ پائے جاتے ہیں اور چاندی نکالنے والے دو تین سالوں ہی میں لیڈ کے زہریلے اثرات کے باعث مر جاتے تھے۔ پھر یہ کام صرف غلاموں سے کروایا جاتا رہا۔ 500 ق م میں ایتھنز کے قریب چاندی کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا تھا۔ اسی دولت سے ایتھینز ایک خوشحال شہری ریاست اور مضبوط بحری طاقت بنا تھا۔ خالص چاندی بہت نرم ہوتی ہے۔ برتن اور زیور بنانے کے لئے اس میں تانبے کی ملاوٹ کرنا پڑتی ہے۔ یا نی آپا بولیں۔ میں نے تو سنا ہے چاندنی چوک کا نام یہاں کی مرکزی نہر سے چاندنی کے بے مثل نظارے کی وجہ سے پڑا تھا۔ انکل بولے۔ شاید یہ ہی ٹھیک ہو لیکن نہر یا حوض تو نظر نہ آیا ہاں گھنٹہ گھر ضرور تھا بیچ میں۔ وقت سب کچھ تبدیل کر دیتا ہے۔ تاریخ کا غم ہلدی رام کے مزیدار کھانوں سے غلط ہوا۔ کیا مٹھائی بناتا ہے ظالم۔ سوہن پپڑی کا تو جواب ہی نہیں۔ لال قلعہ بھی زیادہ دور نہیں ہے وہاں سے۔ ناتھ گیسٹ ہاؤس کے ویجیٹیرین کھانوں سے طبیعت اکتا جاتی تو گلی کبابیاں میں کریم کے ذائقہ دار کھانوں سے طبیعت بہلاتے۔ رومالی روٹی کے ساتھ خاص مغلئی مصالحے اور ترکیبیں سینہ در سینہ ایسی کہ  آدمی انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔ دلی تو داستانِ الف لیلا ہے ممدو۔ باقی پھر کبھی اور صحیح۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.