Radio Ka Jadoo ریڈیو کا جادو، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاوانواں انشا Magic of Radio, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 57

Not long ago, radio emerged as a magical invention to entertain and educate people with music, plays and news. Dada Ji commemorate the golden days

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

ریڈیو کا جادو، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاوانواں انشا، شارق علی
آ ئی فون پر دادا جی کو ورلڈ ریڈیو نیٹ ورک کی من پسند نشریات سنوائیں تو بولے. بھئی ممدو. یہ انٹرنیٹ طلسم ہوش ربا سے کم نہیں. ہم بچے تھے تو ریڈیو بھی جادو لگتا تھا. بڑا سا مرفی اونچی تپائی پر دھرا رہتا. ا ماں نے بڑے چاؤ سے کروشیا کا غلاف سیا تھا پھول دار. والد صاحب مقررہ وقت پر کھولتے اور بند کرتے. ہم بچے دور بیٹھے سنتے. انکل بولے . ١٨٩٥ میں ایک اطالوی مارکونی نے بغیر تار کے ٹیلیگرافک میسج  بھیج کر ریڈیو انقلاب کا آغاز کیا تھا لیکن آواز نشر کرنے کا سہرا فیسنڈ ن  کے سر ہے. اس نے ١٩٠٦ میں برنٹ راک سٹیشن میساچوسیٹس سے وایلن پراے مقدس رات کی دھن بجائی اور بائبل سے ایک صفحہ پڑھا تو بندر گاہ پر کھڑے ایک بحری جہاز میں یہ تاریخ  ساز نشریات سنی گئی. پھر ایک برطانوی کمپنی مارکونی کے نام سے قائم ہوئی تو ریڈیو مقبول عام ہوتا چلا گیا. آوازیں، الفاظ اور موسیقی آزاد فضاؤں سے گزر کر اور دیواریں چیر کر دنیا کے ہرکونے میں پھیل گئے. ١٩٢٠ تک ریڈیو خبروں، ڈراموں اور دلچسپ پروگراموں کی صورت یورپ اور امریکا کے عوام کی زندگی کا حصّہ بن گیا. دادا جی بولے. لاہور اور پشاور کے سٹیشن ١٩٣٠ میں قائم ہوۓ تھے. ہمارے بچپن میں ریڈیو صداکار سیلیبریٹیز شمار ہوتے تھے اور فینز کی بوریاں بھر ڈاک. وصولتے . یانی آپا بولیں. صرف آوازوں سے ذہن کے اسٹیج پر صورت احوال اور کرداروں کو تشکیل دینا بہت دلچسپ ہوتا ہے. اس دور کی عوامی سوچ اور ذہنوں کی تعمیر میں بھی ریڈیو نے یقیناً حصّہ بٹایا ہو گا. دادا جی بولے. ریڈیو پرسنا غلام مصطفیٰ ہمدانی کا یہ اعلان میں شاید کبھی نہ بھلا سکوں گا. السلام علیکم پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس، ہم لاہور سے بول رہے ہیں تیرہ اور چودہ اگست سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات، بارہ بجے ہیں ، طلوع  صبح آزادی . آزادی نصیب ہوئی تو پاکستان کے پاس لاہور، ڈھاکہ اور پشاور کے ریڈیو سٹیشن تھے. کراچی سٹیشن تو ١٩٥٠ میں قائم ہوا. ہم نوجوان بناکا گیت مالا اور کرکٹ کی بال بہ بال کمینٹری کے  شیدائی تھے. کھیل کا پورا نقشہ آنکھوں میں سما جاتا تھا. پھر بچوں کی دنیا، بزم طلبہ، مشاعرے، بیت بازی اور ڈرامے. شکیل احمد اور انور بہزاد جیسی خبریں پڑھنے والے اب کہاں. انکل نے کہا. پینسٹھ کی جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں سترہ دن تک ریڈیو سٹیشن پر رہیں اور فوج کے شانہ بشانہ لڑیں. کرفیو پاس تھامے لاہور کی گلیوں سے سازندوں کو جمع کرتیں اور ملی  نغمے ریکارڈ کرواتیں. ریڈیواس دور میں ٹی وی اور فلم کے فنکاروں کی درسگاہ تھی . طلعت حسین، قاضی واجد، ضیاء محی الدین اور ٣٩ سال چلنے والا اشفاق احمد کا تلقین شاہ کون بھول سکتا ہے بھلا. بھئی  میری آئیڈیل تو شملہ میں پیدا ہونیوالی ٥٠ انچ لمبی منی باجی تھیں جو نونہال اور پھر بچوں کی دنیا سے پینتالیس سال تک جڑی رہیں اورنگار ایوارڈ حاصل کیا………..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *