Raat Kay Musafir رات کے مسافر، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل، تریسٹھواں انشا Green Turtle of Karachi, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 63

A large number of female Green Turtle comes out of Indian ocean to make nests and lay eggs at Sandspit Beach of Karachi each year. A journey of life and death begins in the darkness of night

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

رات کے مسافر، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل، تریسٹھواں انشا، شارق علی
رات کا پچھلا پہر تھا. سینڈس پٹ کے ریتیلے ساحل میں جا بجا دھنسے ملگجے بیضوی انڈوں میں سے کچھ تڑ خے ہوۓ تھے اور ان میں سے نکلتے، زندگی کی ابتدا کرتے، مینڈکوں جتنے ننھے کچھوے. تاریک ساحل پر روشن لہروں کو منزل بناۓ، اپنے قبیلے اور اپنے ماحول کی سمت آگے بڑھتے، اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوۓ رات کے مسافر. یہ تھی ہمارے بچپن میں سبز کچھووں سے پہلی ملاقات. انکل پٹیل کراچی کے ساحلوں کو یاد کر رہے تھے. بولے. کتنے دکھ کی بات ہے کہ ایک بڑی تعداد میں یہ نوزائدہ کچھوے قریبی سڑک سے گزرتی گاڑیوں کی روشنییوںاور قریبی گاؤں کی لالٹینوں کو منزل سمجھ کر آوارہ کتوں کی غذا، یا گاڑیوں کے پہیوں تلے آ کر اور آبادیوں کی روز مرہ سنگ دلی کا شکار ہو جاتے ہیں. کچھ اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر منافع کی سولی پر لٹک جاتے ہیں.یانی آپا بولیں. مجھے تو کچھ ایسی ہی ملتی جلتی کہانی کراچی کے عوام کی بھی لگتی ہے. روشنیوں کی سمت سفر کرنے کی آرزو میں مجرموں کو رہبر سمجھنے والے انگنت معصوم لوگ بھی تو مہلک انجام کو پہنچتے ہیں. دادا جی بولے. یہ ننھے سبز کچھوے سمندری گھاس اور الجی کی غذا پر زندہ رہتے ہیں اور آخر کار سمندری دنیا کے سب سے لمبے اور وزنی کچھوے بن جاتے ہیں. اتھلے پانی ان کی رہائش گاہیں ہیں. ہجرت کے سفر پر ہوں تو چالیس کلو میٹر روز کی مسافت معمول کی بات ہے. پندرہ سے پچاس سال تک کی مادایںافزائش نسل کے لئے قریبی ساحلوں کا رخ کرتی ہیں اور کسی ایک مقام پر ایک وقت میں تقریباً سو انڈے دیتی ہیں. جانے کیوں کراچی کے ساحل جیسے ہاکس بے اور سینڈس پٹ پر جولائی سے دسمبر کے درمیان  ہر سال ہزاروں سبز کچھوے افزائش نسل کے لئے آتے ہیں. جنگلی حیات کے تحفظ کا ادارہ انڈوں کی حفاظت اور تحقیق کی کوششیں بھی کرتا ہے. ٹیگ ہوۓ کراچی کے کچھوے ہندوستان، ایران اور اریٹریا تک میں پائے گئے ہیں. کراچی کے ساحلوں کے کچھ اور مزے بھی تو بتائے؟ میں نے کہا. انکل بولے. بچپن میں اکثر دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ جانا ہوتا. حکومتی انتظامات تو نہ ہونے کے برابر تھے. کھانے اور ضروررت کی چیزیں ساتھ لے کر جانا پڑ تیں. ساحل کے ساتھ دور تک چلتی چلی جاتی پتلی سی سڑک . کوئی اچھا مقام نظر آتا تو دوست یار وہیں ڈیرہ ڈال دیتے. دو پہر میں لوگوں کا رش بڑھنے لگتا لیکن ساحل اتنا وسیع تھا کہ ہر ایک کو جگہ میسّرآ جاتی. گھر والوں کا ساتھ ہوتا تو آرام دہ ہٹ کے سامنے مخصوص ریتیلے ساحل کا انتظام موجود. کئی دفعہ رات بھر قیام بھی کیا. سمندر اورسورج کی آنکھ مچولی میں کئی رنگ بدلتے دیکھتے . صحیح لطف طلوع یا غروب آفتاب کے وقت آتا. لہروں کے ساتھ ساتھ لمبی سیریں کی جاتیں. گھر سے لا ۓ لذیز پکوان اور ٹینس بال کرکٹ کی چیخ پکار کا لطف اٹھایا جاتا. اور کبھی خاموشی سے آنکھیں بند کر کے ریت پر لیٹ جاتے. علی الصباح پر سکون ٹہل کے دوران جال نکالتے ماہی گیروں کو دیکھتے. آتی جاتی لہروں کا فرحت بخش سرگم سنتے. نرم ہوا کی جیسی تازگی ہم نے کراچی میں پائی ممدو، ویسی کہیں اور نہیں ……..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.