Mirpurkhas Kay Aam میرپورخاص کے آم، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچپنواں انشا Delight of Mirpurkhaas, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 55

Enjoy the flash of the fourth largest city in the province of Sindh where hundreds of varieties of mangoes produced each year

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

میرپورخاص کے آم، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچپنواں انشا، شارق علی
پھول بن ندی کے کنارے پکنک تھی.آموں سے لطف اندوزہونے کے دوران گفتگو چل نکلی. انکل بولے. آم تو یہ بھی خوب ہیں لیکن میرپورخاص کے آموں کا جواب نہیں. جتنی قسمیں وہاں دیکھیں کہیں اور نہیں، مختلف شکلیں، چھوٹے، بڑے ، پیلے، نارنجی، لال، اور ہرے آم . خوشبو اور ذائقوں کی بہار. معلوم ہے ممدو آم کے پھول چھوٹے اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں. ہرپھول میں پانچ پتیاں. دادا جی بولے. آم کی کاشت پانچ ہزار سال پہلے سندھ سے شروع ہو کر سارے ہندوستان میں پھیلی تھی. بودھ کو گیان دھیان کے لئے آم کی ٹھنڈی چھاؤں اچھی لگی تو پیروکار تعلیمات اور بیج لئے پورے اشیا میں پھیل گئے. پھر مشرق وسطیٰ اور تیسری صدی میں یہ بیج جنوبی امریکا پہنچے. تین سو سالہ  پھلدار آم تو اب بھی مغل باغات میں دکھائی دے جاتے ہیں اوردرخت کی بلندی کوئی سو فٹ کے قریب. یا نی آپا نے کہا. ایک کپ آم کے رس میں سو کیلوریز ہوتی ہیں اور دن بھر کی وٹامن سی اور فا ئیبر کی ضرورت پوری. کچھ ذکر میرپورخاص کا بھی تو کیجئے؟ میں نے کہا. انکل بولے. بھئی بہت پرانی بات ہو گئی اب تو. کوئی پانچ برس کی عمر ہو گی میری. کچھ روشن کچھ دھندلی تصویریں ہیں بس . پینسٹھ کی جنگ میں سڑک سے گذرتے فوجی قافلے اور کنارے  پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرتی عوام. دعاؤں کو اٹھے جھریوں بھرے بزرگ ہاتھ.  یا پھر ہمارے گھر کی کھڑکی سے نظر آتے کلینک کے باہربیٹھی تھر سے آئ مریض عورتوں کے سفید کڑوں  سے ڈھکے بازو،رنگین گھاگرے اور ان کی بیل گاڑیوں میں جتے خوبرو اور توانا بیل. کریم بیکری کے مالک کی بڑے بھائی سے شناسائی اور دو زردی والے انڈوں کی سوغات. کڑھائی سے اترتے گرم آلو بھرے پکوڑوں اور دال سیو کی مہک. چٹپٹی چٹنی کے آتشیں لطف کے ساتھ. کاٹن فیکٹری میں روئی کے پہاڑ جیسے ڈھیر پر اونچائی سے جیمز بانڈ کی سی چھلانگیں. پھر کبھی گئے آپ میرپورخاص؟ میں نے پوچھا. بولے. جن بوجھ کر نہیں. یادوں کے شیش محل چکنا چورنہ ہوجائیں کہیں. صحرائے تھر کے کنارے سندھ کا تاریخی شہر ہے میرپور. چوتھی صدی عیسویں میں کہو جو ڈیرو کے نام سے بنیاد پڑی تھی اس کی. بدھسٹ دور کے قدیم آثار اب بھی ملتے ہیں وہاں. پھر تالپوروں نے باقاعدہ شہر آباد کیا اور انگریز زمانے میں یہ بمبئ پریزیڈنسی کا حصّہ رہا. پاکستان بنا تو کھوکرا پار سے آنیوالے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے والا پہلا شہر تھا یہ. پھر شاہی بازار، اسٹیشن روڈ اور حیدرآباد روڈ آباد ہوتے چلے گئے اور اب تک ہیں. سب سے زیادہ شہرت آموں کے باغ اور آموں کو ملی. خاص طور پر سندھڑی کو. وہاں کے آموں کا جواب نہیں ممدو……..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.