Kunhaar Kay Sang کنہار کے سنگ ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پینسٹھواں انشاء Along Kunhar River, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast serial, Episode 65

Icy waters from Jheel Saif ul Mulook feed River Kunhar that passes through the Naran valley down to Mansehra. A journey that witnesses the richness of natural beauty and poverty of people

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

کنہار کے سنگ ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پینسٹھواں انشاء، شارق علی
مانسہرہ سے پھل لئے گئے۔ جیپ روانہ ہوئی تو گل خان ڈرائیور نے تسلی دی۔ صائب بیس سال ادھر جیپ چلایا۔ آپ تھوڑا آرام لو۔ دادا جی وادی کاغان کو یاد کر رہے تھے۔ بوے۔ کوئی ستر میل کا سفر ہوگا۔ پہاڑی رستہ، دریائے کنہار کبھی ساتھ کبھی اوجھل۔ ناران قریب آیا تو منظر بے حد حسین ہو گیا۔ گلیشیر عبور کرتے تو پگھلتے پانی کی جل ترنگ سنائی دیتی اور یخ ہوا کے جھونکے بدن کو چھوتے۔ بارش ہوئی تو سبزہ زار، جنگل، ڈھلانیں، اور چھوٹی چھوٹی ندیوں کو جدا کرتے سبزے سے ڈھکے جزیرے نہا کر تر و تازہ ہو گئے۔ دھوپ نکلی تو پوری وادی جنت نظیر۔ کھانے کے لئے ندی کنارے ایک ڈھابےپر رکے۔ چھوٹی سی اتھلی ندی، تہہ میں گول پتھر اور تیز بہتے پانی میں ڈلی چارپائیاں۔ گھڑی بھر پاؤں پانی میں ڈالے تو سن۔ پاؤں نکالے اور  پیپسی ڈال دی۔ تلی ہوئی ٹراوٹ مچھلی، آلو پالک کا ساگ اور گرم نان. لطف آگیا۔ ناران پہنچ کر پی ٹی ڈی سی کے موٹل میں قیام کیا۔ دریا کے بالکل ساتھ ۔ سمندر سے ڈھائی کلو میٹرکی اونچائی پر ہے ناران۔ رات ہوئی تو تاروں بھرا آسمان اور بہتے دریا کی آواز۔ لوگ کیسے ہیں وہاں کے؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ صحتمند، خوش مزاج، شلوار قمیض اور پشاوری جوتی پہنے، ہندکواور اردو بولتے ہوے۔  زیادہ ترروزگار سیاحت سے جڑا ہوا، کچھ دیحقان اور چرواہے بھی۔ کمائی صرف گرمیوں میں۔ ورنہ برف سے ڈھکے پہاڑ اورغربت کا اندھیرا۔ بس ایک پرائمری اسکول نظر سے گزرا۔ تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر۔ دنیا میں غربت کیوں ہوتی ہےدادا جی؟ میں نے سوچ میں ڈوبی آواز میںپوچھا۔ بولے کڑوا سچ یہ ہے کے دنیا کے 4.4 بلین لوگ غربت کا شکار ہیں اور سب سے زیادہ غریب جنوبی ایشیاء میں۔ وسائل کی غیرمساوی تقسیم۔ عالمی مالی اداروں کے بدنیت قرضے اور تجارتی قوانین کے ذریعے ترقی پزیر ممالک کا استحصال ۔ پھر جنگوں اور سیاسی بحران کے نتیجے میں ہجرت اور بے روزگاری۔ نتیجہ نا کافی غذا، رہائشی بد حالی، تعلیم اور صحت سے محرومی. جھیل سیف الملوک گئے آپ؟ میں نے دکھی ہو کر بات بدلی۔ بولے۔ اگلی صبح پہلے تو آملیٹ، پراٹھوں اور چائے کا بھرپور ناشتہ کیا۔ جیپ پائن کے درختوں میں گھری چڑہای چڑھتی سڑک پر روانہ ہوئی۔ ہر سال کی بارش اور لینڈ سلائیڈ سے یہ سڑک کچی پکی تھی۔ ایک طرف چٹانی دیوار. دوسری طرف گہری کھائی میں دور کہیں بہتا دریا۔ ہر موڑ پر خدا یاد آتا۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعددوکانیں، ہوٹل، اور پھر جھیل نظر آئی۔ باقی سفر پیدل طے کیا۔ جھیل کے کنارے گھاس کے میدان میں دریاں بچھیں۔ مبہوت کر دینے والا منظر تھا۔ یخ پانی کی جھیل کے آئینہ میں ملکہ پربت  کا عکس اور سامنے بھی وہی۔ دریائےِ کنہار اسی جھیل سے نکلتا ہے جو ناران سے گزر کر مانسہرہ تک جاتا ہے۔ ہم تونہیں گئے کوئی سات سو میٹر اوپر آنسو جھیل بھی ہے ملکہ پر بت کے کنارے۔ میں غربت کے موضوع پر پلٹا اور بولا . وہاں حسن کے ساتھ خوشحالی بھی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا. یانی آپا نے کہا. ہمیں تفریق اور سرحدوں سے آزاد ایک ایسی دنیا، ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے ممدو ۔ جو سب انسانوں کو مساوی حقوق دے سکتا ہو۔ انصاف پر قائم ایسی دنیا کی سمت جدوجہد سے کم کوئی اور راستہ قبول کر لینا بزدلی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.