Kolkata Ki Teresa کلکتہ کی ٹیریسا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکھترواں انشا Teresa of Kolkata, Grandpa & me, Urdu Hindi Podcast Serial, Episode 71

Enjoy the glimpse of the city of Kolkata and the story of a woman who established a hospice, centers for the blind, aged, disabled,  and a leper colony

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

کلکتہ کی ٹیریسا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکھترواں انشاء، شارق علی
دادا جی اپنے دوست جوشی کو یاد کر رہے تھے۔ بولے۔ سلہٹ کے موسمِ بہار کی رات تھی اور جھلمل روشنی میں پول کے کنارے سجی میزوں پر ملک ملک سے آئے مندوبین اپنے روایتی لباس پہنے بیٹھے تھے۔ جوشی کی پر سوز آواز اور دوتارے پر ٹیگورکی مدھر دھن۔ ثقافتی شام کا اختتام تالیوں کی گونج میں ہوا۔ ہم دونوں گیسٹ ہاؤس کی جانب چلے تو دونوں طرف نیند میں ڈوبے چائے کے باغات تھے۔ کلکتہ کا احوال پوچھا تو بولا۔ شہر کیا ہے پورے مشرقی انڈیا کی نمائندہ جھلک سمجھو۔ دہلی کے راجدھانی بننے سے پہلے 1911 تک انگریزوں نے یہیں سے حکومت کی۔ درگا پوجا کا تہوار جس شان سے یہاں منایا جاتا ہے کہیں اور نہیں۔ ایڈن گارڈن دنیا کا تیسرا بڑا اسٹیڈیم ہے۔ ستر ہزار تماشائیوں کی گنجائش۔ کتاب سے محبت سب لوگوں کو۔ پرانی کتابوں کا جتنا بڑا ذخیرہ یہاں ہے۔ شاید دنیا میں کہین اور نہ ہو۔ ایک بار کتاب میلہ لگا تو بیس لاکھ لوگ پہنچے تھے۔ 1902 میں ٹرام چلنا شروع ہوئی اور اب تک چلتی ہے۔ میٹرو بھی موجود اور ہاتھ گاڑی والے رکشاء بھی۔ رس گلوں کا تو جواب ہی نہیں۔ کڈرپور کی بندرگاہ پورے ہندوستان میں سب سے پرانی ہے۔ پھر یہ ٹیریسا کا شہر بھی تو ہے۔ کون ٹیریسا؟ میں نے پوچھا۔ دادا جی بولے۔ سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر چھوٹے سے قصبے اسکب جو اب میساڈونیا کی راجدھانی اسکوپجے کہلاتا ہے میں 1910 میں پیدا ہونے والی سولہ سالہ ٹریسا گھر چھوڑ کر انڈیا آئی اور 1997 میں آخری سانسوں تک بے آسرا مریضوں کی خدمت کرتی رہی۔ لیکن کیوں؟ میں نے پوچھا۔ یانی آپا بولیں۔ وہ آٹھ سال کی عمر میں یتیم ہوئی تو رومن کیتھولیک چرچ میں پلی بڑھی۔ کم عمری میں خدمتِ انسانی کے راستے خدا سے ناطہ جوڑا جو کبھی نا ٹوٹ سکا۔ مشنری کام کے لئے دارجلنگ پہنچی اور انگریزی سیکھی۔ پھر بنگالی سیکھ کر استانی بن گئی اور آخر کار کلکتہ کے اسکول میں ہیڈ ٹیچر۔ وہ استانی تھی تو پھر مریضوں کی خدمت کیسے کی؟ میں نے کہا۔ یانی آپا بولیں۔ چھتیس سال کی عمر میں میڈیکل ٹریننگ لے کر اس نے اپنا ادارہ قائم کیا۔ 1948 کے غریب انڈیا میں یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ کبھی فاقے کئیے کبھی بھیک مانگی۔ اس کا مشن بھوکوں، بے گھر لوگوں، بے آسرا اندھوں اور جزامیوں کی خدمت کرنا تھا۔ دھتکارے ہووں سے محبت کرنا، ان کی تعظیم اور جینے مرنے میں ان کا ساتھ دینا تھا۔ ادارہ شروع ہوا تو تیرا ننس تھیں۔ آج چار ہزار سے زیادہ ہیں اور دنیا کے ہر گوشے میں موجود۔ 1979 میں اسے نوبل انعام دیا گیا۔ ایک دفعہ محازِ جنگ کے بیچ پوھنچ کرسینتیس بچوں کی جان بچائی تھی اس نے۔ البانیہ کا ایئر پورٹ اس کے نام سے منسوب ہے۔ مسلسل کام کرنے والی مرنے سے ایک رات پہلے تک خدمت میں مصروف رہی۔ کیتھولیک چرچ نے اسے سینٹ کا درجہ دے دیا ہے۔ کلکتہ کی سینٹ ٹیریسا۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.