Indore Main Khapa اندورمیں کھاپا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکسٹھواں انشا Street Food of Indore, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 61

Day time Sarafa, a jewellery market, gets transformed into a pedestrian food street at night in Indore city of Madhya Pradesh. Enjoy a glimpse of food capital of India

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

اندورمیں کھاپا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، اکسٹھواں انشا، شارق علی
ممبئی کی فلائٹ سے اترے توسامنے چھوٹا سا ائیرپورٹ. ملا جلا شہری دیہاتی ماحول اور کاروائی آہستہ خرام . میزبان نےدور سے ہاتھ ہلایا. ہوٹل کو چلے تو راستے بھر اسی شہر کی لتا منگیشکر اور کرسچین کالج کے پڑھے کشورکمار کے گانے سننے کو ملے . انکل انڈیا کے شہر اندورمیں اپنا قیام یاد کر رہے تھے. بولے. ہوٹل سے پہلے شہر کا چکر لگایا. وہی سردیوں کی خوشگوار کراچی جیسی گنگناتی دھوپ. کہیں کہیں سڑک کنارے گل موہرکے شوخ پھولوں سے لدے درخت. وہی ٹریفک کا طوفان بد تمیزی اور جام کی صورت میں کسی بھی راہگیرکا ٹریفک پولیس کی ذمے داری سنبھال لینا. آٹورکشا بھی بہتیرے. بل بورڈ پر لگے ٹیوشن سنٹراور کمپیوٹر کورس کے اشتہارات جا بجا . یہاں کی ابھرتی سافٹ ویئر انڈسٹری شاید انہی پر حدّت نوجوان جذبوں کا ثمر ہے. سا یاجی ہوٹل  پہنچے تو اعلی درجے کی سات منزلہ عمارت سامنے. آراستہ کمرے  میں سامان رکھا. بھوک بے چین کئیے دیتی تھی. ریستوران میں گئے تو شمالی ہند کی روایتی سجاوٹ اور لذیز کھانا. ایک طرف غزل کی گائیکی کا بھی انتظام . میزبان سے فرمائش کی کہ کل کا دن گلی کوچوں کی چہل پہل اور عام لوگوں کے اندوری لب و لہجے سے شناسائی میں گزارا جائے . لال باغ پیلس کا دروازہ دیکھا آپ نے؟ یانی آپا نے پوچھا. انکل بولے. بکنگھم پیلس کے جڑواں گیٹ کو دیکھنے کا شوق تو ہمیں بھی بہت تھا لیکن فرصت نہ مل سکی. اگلے دن ہند کی ذائقہ راجدھانی کی گلیوں میں خوب گھومے. آٹو رکشے والا آنند بہت سادہ  نہایت نرم گو لیکن سیاسی اونچ نیچ سمجھنے والا . لئے لئے پھرا اور خوب باتیں ہوئیں. چھپن دکان میں قسمہ قسم کھانوں کی چھپن دکانیں ہیں ایک ساتھ. پہلے تو پوہا جلیبی کا ناشتہ کیا. پھر گلیوں میں شاپنگ سے تھک کر بے حال ہوئے تو ایگ بینجو کھایا. گرم چیرے ہوۓ بن میں لال مرچوں والا آملیٹ اور چٹنی ایسی کہ آدمی سوں سوں کرتا رہ جائے  . ساوریا کی سابو دانہ کھچڑی اور لکشمی نارائن کا بادامی دودھ بھی لاجواب. رات ہوتے ہی رجواڑہ میں صرافہ کی دکانیں بند ہوتی ہیں اوران ہی کے سامنے ذائقوں کا رتجگا شرو ع . پنیر مٹر اور آلو بھرے پراٹھوں کی مہک دل تھام لیتی ہے. آخر میں پیٹھا پان. کاجو، گلقند، اور پتلے سے پیٹھے کے ٹکڑے کے ساتھ. پان کیا مٹھای سمجھو. میں جھلس کر بولا. دادا جی کہتے ہیں بے تحاشا کھاپا اور بد پرہیزی کوئی اچھی بات نہیں انکل؟ پٹاخ سے بولے. بد پرہیزی کیسی ممدو میاں . پانی جب بھی پیا امپورٹڈ اور بوتل بند……..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.