Dana دا نا ، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل، بیالیسواں انشا Enlightened, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast, Episode 42

What do you mean by an enlightened person? Mamdu wonders. Does he get a satisfactory answer? Find out in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

دا نا ، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل، بیالیسواں انشا، شارق  علی
ویبینار سے فارغ ہوۓ تو کمپیوٹر بند کیا اور برآمدے میں آ بیٹھے. انٹرنیٹ پر ہونے والے اس مذاکرے کا عنوان تھا کامیاب زندگی . موسم خوش گوار تھا اور سامنے لان میں رنگا رنگ پھول کھلے ہوئے ، لیکن ذہن سوالوں سے پر. سب اطمینان سے بیٹھ گئے تو میں نے بحث میں استعمال ہوۓ لمبے سے لفظ کا مطلب پوچھا. یہ صاحب علم او آگہی کیا ہوتا ہے دادا جی؟ مسکرا کر بولے. ہمارے وقتوں کی مشکل اردو ہے یہ. تم آسان زبان میں اسے دانشمند کہ لو یا صرف دانا . دانا  شخص کی پہچان کیا ہے دادا جی؟ دادا جی سے پہلے بابل بول اٹھا. میں نے دیکھا تھا دا نا شخص ایک دفعہ. لمبے بال، سرخ آنکھیں، ہاتھ میں اکتارہ. نیرنگ اباد  جاتی سڑک پر پانی پلایا تھا اسے میں نے. میرے ہونٹوں  پر طنزیہ ہنسی کو نظر انداز کرتے ہوۓ دادا جی سنجیدگی سے بولے. بلکل بابل. ہو سکتا ہے وہ شخص دانا ہو. دا نا  دنیا کے ہر کونے میں اور ہر روپ میں پا ئےجاتے ہیں لیکن ذراکم کم. ممکن ہے تم اسے نیپال کی ترائی میں بکریاں چراتا دیکھو، یا شگھائی کے اسکول میں بچوں کو پڑھاتا یا سیلیکون ویلی میں میلی جینس پہنے کمپیوٹر کے سامنے یا کسی آفس میں سوٹڈ بوٹڈ میٹنگ میں مصروف. کچھ اور بتائے دا نا  کے بارے میں؟ میرا تجسس بڑھا. دادا جی بولے . کسی بھی ماحول اور معاشرت میں فکری لحاظ سے آزاد انسان کو ہم داناکہتے ہیں. ضروری نہیں کہ دانا باغی ہو. لیکن وہ مفروضوں یا سادہ لوح وضاحتوں پر مبنی روایتوں کو قبول نہیں کرتا. اپنی ذاتی رائے اور یقین کو اپنی ذمّے داری سمجھتے ہوۓ خود تشکیل دی ہوئی سوچ کے تحت فیصلے کرتا ہے. انکل نے یانی آپا سے چاے لانے کو کہا اور بات آگے بڑھائی . دانا خود اپنے آپ سے اور ارد گرد کے حالات سے  بخوبی واقف ہوتا ہے. نت نئی باتیں سیکھنے کا شوقین. بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت سے لیس. یا نی آپا انکل اور دادا جی کو چاے دے چکیں توبولیں. مجھے اپنے ایک دانااستاد یاد آ رہےہیں . کوئی مشکل یا بحران ہوتا تو بھی وہ پر سکون رہتے تھے. حالات سے بے حسی برتتے ہوۓ نہیں، بلکہ پوری حسّاسیت کے ساتھ اورمشکل پرحاوی ہونے کی تدبیر کرتے ہوے. وہ بہت خوش اخلاق اور محبّت کرنے والے تھے. زندگی میں بھرپور شراکت داری کا جذبہ اور جوش تھا ان میں. دادا جی بولے. دا نا لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم انسانوں کو تمام سوالوں کے جواب میسر نہیں. لیکن جو سچائی ہمارے سامنے ہے اسے درست پس منظر میں بلا جھجھک قبول کرنا ضروری ہے. عموما وہ تخلیقی رحجان رکھتے ہیں. لکھنا، تصویر بنانا یا موسیقی تخلیق کرنا. یا صرف زندگی گزارنے کے عمل میں نئی راہیں تلاش کرنا. گفتگو ہو یا رویہ یہ تازگی یہ نیا پن ان کے یہاں صاف نظر آتا ہے. زندگی میں معنویت کی تلاش ان کے لئے اہم ہوتی ہے. یانی آپا گفتگو سمیٹتے ہوے بولیں. دانا شخص جس نے اخلاقی اصولوں کو مضبوطی سے تھام رکھا ہو زندگی کے تمام راستوں پر سےپر اعتماد گزر سکتا ہے. یوں سمجھو ممدو کے دانائی کا حصول اوراخلاقی اصولوں کی پاسداری ہی زندگی کا بنیادی جواز ہے………جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.