Aseer اسیر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چوالیسواں انشا Captive, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast, Episode 44

Mamdu explores the meaning of feminism and come across the most powerful female voice of persian poetry Forugh Farrokhzad

I want you, yet I know that never
can I embrace you to my heart’s content
you are that clear and bright sky
I, in this corner of the cage, am a captive bird

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

اسیر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چوالیسواں انشا، شارق علی
بوریت کی وجہ یانی آپا کی اسکائپ پر ہونے والی فیمنسٹ سوسائٹی کی طویل میٹنگ تھی. فارغ ہوئے تو سائیکلیں لے کر سیر کو نکلے. پھولبن کے گھنے درختوں کے درمیان سے گزرتی بل کھاتی پگڈنڈیاں اور دونوں سائیکلیں ساتھ ساتھ. کوہ رمز کے دامن میں سبزہ زار پر سائیکلیں گرا کرلکڑی کی بینچ پر بیٹھ گئے. میں نے پوچھا. فیمینیزم کیا ہوتا ہے یا نی آپا ؟ بولیں. سیاسی تحریک کہ لو یا سوچ کاانداز. موجودہ یا ماضی کے سماجی روئیے اور تجربے جن کا سامنا عورتوں کو رہتا ہے اگر تنقیدی نظروں سے پرکھے جائیں تا کہ مساوی حقوق کی راہ ہموار ہو سکے تو یہ فیمینیزم ہو گا. سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں عورتوں کو طاقور بنانے کی عالمی تحریک. کیا میں فیمینسٹ بن سکتا ہوں؟ میں نے پوچھا. بولیں . کیوں نہیں. آزادی اور انصاف کو سب کا حق سمجھنے والے مرد بھی فیمنسٹ ہوتے ہیں. ١٨٤٨ میں نیو یارک میں سیںیکا فالزمیں ہونے والا کنونشن اس تحریک کا آغاز تھا لیکن ١٩٦٠ کے یورپی سماجی انقلاب نے اسے مزید طاقت بخشی. مشرق میں بھی کئی انفرادی  آوازیں ابھریں. کوئی مثال دیجئیے؟ میں نے بات کو طول دیا. بولیں. ١٩٣٥ میں تہران کے خوشحال خاندان میں پیدا ہونے والی فروغ فرخزاد ایک بہترین مثال ہے. ذاتی دکھ شاعری میں کچھ یوں جھلکا کے عالمگیر نسوانی المیے کی علامت بن گیا. پبلک اسکول سے تعلیم یافتہ فروغ نے مصوری بھی سیکھی . سولہ سال کی عمر میں ادھیڑ عمر پرویز شاپور سے شادی ہوئی. ایک سال بعد اکلوتا بیٹا کامیار پیدا ہوا. المیہ کہاں ہے اس میں؟ میں بے صبرایا. بولیں. یہ شادی عمروں کے فرق کے سبب طلاق پر ختم ہوئی. شخصی آزادی اور شا عری  کے لئے فروغ کوکامیار سے جدا ہونا پڑا . وہ یہ دکھ کبھی نہ بھلا سکی. ایک سال بعد اس کی نظموں کی پہلی کتاب اسیر شائع ہوئی. اسی سال ذہنی حالت اتنی مخدوش ہو گئی کہ ذہنی ہسپتال میں داخل ہونا پڑا. بہتر ہوئی تو نو مہینوں کے لئے یورپ گئی اور دوسری کتاب دیوار شائع کی. انتساب بچھڑے ہوئے شوہرکے نام تھا. پھر تیسرے مجموعے نے اسے بھرپور احتجاجی آواز کے طور پر ادبی حلقوں میں متعارف کیا. ١٩٦٢ میں اس نے جزامیوں کی زندگی پر ایک دستآویزی فلم بنائی جس کا عنوان تھا سیاہ پناہگاہ. اس فلم کو بین الا قوامی شہرت اور انعامات ملے. ١٩٦٣ میں یونسکو نے فروغ کی زندگی پر دستاویزی فلم بنائی اور ممتاز فلمسازوں نے اس کی جراتمند شا عری اور زندگی کو اپنا موضوع بنایا. پھر چوتھی کتاب تولد دگر چھپی اور آخری کتاب پرانے موسم پرنیا یقین اس کی جوان موت کے بعد منظر عام پر آ ئی . وہ اپنی ماں سے مہربان ملاقات کے بعد جیپ میں گھر سےنکلی اور ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر بتیس سال کی عمر اور شاعرانہ عروج میں اس دنیا سے رخصت ہوئی. فروغ روایتی شادی میں جکڑی ہوئی ایرانی بلکہ مشرقی عورت کی مزاحمتی آواز ہے . بیوی، ماں اور طلاق یافتہ عورت کے دکھ کی علامت. کوئی نظم سنائیےاس کی. یا نی آپا کچھ دیر خاموش رہیں. پھر کوہ رمز کی سمت دیکھتے ہوئے بولیں. اس کی نظم اسیر کے ابتدائی مصرعےکچھ یوں ہیں. میں چاہتی ہوں تم جان لو، میں تمہیں کبھی گلے نہ لگا سکوں گی. تم کھلا آسمان ہو اور میں پنجرے میں  اسیر چڑیا. ہو سکتا ہے سلاخوں کے پیچھے نادیدہ ہاتھ مجھے حیران کر دے. اور میں تمہاری سمت پرواز کے لئے پر کھول سکوں……..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.