گھنٹی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تیسواں انشا School Bell. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 30

Education is a dream not a fundamental right n the developing world. The past and the present is bleak but the future is bright

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summerVACATION HOME in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

گھنٹی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تیسواں انشا، شارق علی
گھنٹی بجی اور پھول بن پرائمری اسکول کے بے چھت اور کچی پکی دیواروں والے کمروں سے بچے شور مچاتے ہوۓ نکلے اور پلک جھپکتے تتر بتر ہو گئے اورعمارت بھوت بنگلہ لگنے لگی. یانی آپا، بابل اور میں نے استانی صاحبہ کا شکریہ ادا کیا اور اجازت لی. قصباتی تعلیم کی صورت حال پر بلاگ لکھنے کے لئے یانی آپا کا یہاں ایک دن گزا رنا ضروری تھا. بابل نے اسی اسکول سے پرائمری پاس کی تھی اور استانی صاحبہ سے اجازت کا ذریعہ وہ ہی ثابت ہوا تھا. گھر پہنچے تو دادا جی اور انکل برآمدے میں چائے اور بسکٹ سامنے رکھے گویا ہمارے ہی منتظر تھے. موضوع  تعلیمی پسماندگی  ہو تو یانی آپاجذباتی ہو ہی جاتی ہیں. تقریری انداز میں بولیں . تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق، پرورش کی بنیادی ضرورت ہے، جیسے غذا، لباس، گھر، خاندان اور پیار. میں نے شرارت بھری سنجیدگی سے آگ مزید بھڑکائی. میں تو قائل ہوں لیکن ان دوستوں کو کیا سمجھاؤں جو پوچھتے ہیں تعلیم کا فائدہ؟ دادا جی بولے. تعلیم نہ ہو تو زندگی اور دنیا ادھوری تصویر ہیں ممدو میاں . ذہن کی کھڑکی کھلے تو حقیقی منظر اور تازہ ہوا سے ملاقات ہوتی ہے. تمھارے دوست شا ید روایتی تعلیم کے گھسے  پٹے طریقوں سے بے زار ہیں. انکل بولے. بر صغیر کا موجودہ نظام تین سو سال پہلے انگریز سامراج نے مرتب کیا تھا. اسے  بابو اور کالے صاحب درکار تھے جو راج قائم رکھنے میں مددگار ہو سکیں. چھوٹے بڑے کل پرزے جو لکھنا، پڑھنا اور بنیادی حساب جانتے ہوں.اوربا آسانی ایک علاقے کی بیوروکریسی  مشین سے دوسری مشین پر منتقل کیے جا سکتے ہوں. فیصلہ سازی، روشن خیالی، تخلیقی قوت اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی صلاحیت بالکل غیر ضروری تھی . سانچا اتنا مضبوط تھا کہ آج بھی ویسے ہی پرزے تیار ہو رہے ہیں بلکہ اب تو ناقص مال. یانی آپا بولیں. آج کی دنیا ایک انقلاب آفرین دنیا ہے. سستی دستی کمپیوٹر ڈیوائسز تک رسائی بہت جلد عام ہونے کو ہے. لکڑی کی تختیوں کی طرح یہ ان قریب سب طالب علموں کے ہاتھوں میں ہوں گی . لکھنا، پڑھنا اور حساب کی گتھیاں سلجھانا، مختلف زبانیں جاننا، دل چسپ ویڈیو گیمز کی مدد سے با آسانی سیکھا جا سکے گا. اسکولوں، دفتروں، بازاروں، ہسپتالوں کی شکل اور کام کرنے کے طریقوں میں ایسی انقلابی تبدیلیاں رو نما ہوں گی جنھیں کوئی سامراجیت نہ روک سکے گی. آنیوالا کل تخلیقی صلاحیتوں کی فتح اور ذہن کی آزادی کا زمانہ ہوگا……….جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *