ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا Stranger of Sao Paulo. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 26

Enjoy the discovery of Brazil with Pedro Alvares Cabral in this story. A country of Amazon river, rainforests and anaconda

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا، شارق علی
انکل پٹیل کل رات ہی برازیل کے سفر سے لوٹے تھے. ناشتے کی میز پر دادا جی، یانی  آپا اور میں سفر کی روداد کے لئے ہمنہ تن گوش تھے. انکل نےکہا. دبئی سے فرینکفرٹ اور وہاں سے فورٹالیزا براستہ ساؤ پاؤلو . گھر سے چلے اٹھائیس گھنٹے ہو چکے تھے. کہر آلود صبح میں اونچی عمارتوں سے ٹکرا جانے کے خدشے کو شکست دیتا اور ائیرپورٹ کے گرد تین چکر لگانے کے بعد جب ہمارا جہاز کامیابی سے رن وے پر اترا تو مجھ سمیت سب مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کو داد دی. ساؤ پاؤلو کے سادہ سے ائیرپورٹ پر سامان کے آخری لمحے تک انتظار اور مایوسی کے بعد ایئر لائن کے دفتر پھنچا تو فرینکفرٹ میں سامان پیچھے رہ جانے کی معزرت کے ساتھ ایک تھیلا اور ١٥٠ یو ایس ڈالر ہرجانہ وصول پایا. فورٹالیزا کی فلائٹ پانچ گھنٹے بعد تھی . انتظارگاہ کی بینچ پر بیٹھ کر تھیلا کھولا تو ایک ٹی شرٹ ، نیکر ، موزے کی جوڑی اور ٹوائیلیٹری بیگ میں موجود صابن، ٹوتھ پیسٹ، ریزر اور ٹوتھ برش سے ملاقات ہوئی. تھیلا سر کے نیچے رکھ کر نیم دراز ہونے ہی کو تھا  کے لمبا اورکوٹ اور سر پر جہازی ٹوپی پہنے ایک بوڑھا بینچ پر ساتھ آ بیٹھا اور بولا. تیرہ بحری جہازوں پر لادنے کے لئے مصالحہ جات  کا ذخیرہ فراہم کر سکیں گے آپ؟ میں بینچ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا. نیند ہرن ہو چکی تھی. میرا جواب سنے بغیر ہی اجنبی بولا. میں پیڈرو ہوں، پیڈرو الواریس کبرال . ایک پرتگالی مہم جو. چھ  مہینے پہلے واسکو ڈی گاما تمھارے ملک ہندوستان سے ایک کامیاب مصالحہ جاتی مہم سے واپس پرتگال پہنچا ہے. اور اب مجھے تیرہ بحری جہازدے کر ایشیا اور افریقہ کے ساحلوں پر اس تجارت پر پرتگالی تسلط قائم کرنے کے لئے روانہ کیا گیا ہے .راستے میں یہاں جنوبی امریکا کی زرخیز زمین پر لنگر انداز ہونے کے بعد ہم نے پرتگالی پرچم لہرا دیا ہے . اجنبی کی باتوں میں اس قدر اعتماد تھا کے مجھے تردید کرنا مناسب نہ لگا . بلکہ میں نے اس سے سوال کیا . یہ نو دریافت ملک کیسا لگا آپ کو. اجنبی اطمینان سے بولا. مجھے یقین ہے کہ آج یعنی پندرھویں صدی میں دریافت ہونے والا یہ ملک مستقبل میں پرتگالی عظمت کی علامت بن کر ابھرے گا. ہم افریقی غلاموں کو یہاں بسا کر زرخیز زمین سے کپاس، تمباکو اور شکر حاصل کریں گے اور جہازوں میں بھر کر پرتگال لے جائیں  گے. پھر وہ رکا اور مجھ سے کہے لگا . اور تم یہاں کیسے؟ میں نے جواب دیا  جنوبی امریکا کے  سب سے بڑے ملک میں دنیا کے دوسرے بڑ ے دریا ایمازون کی ٤٠٠٠ میل لمبائی اور ١٥ میل چوڑائی اور اس کے دامن میں گھنے برساتی جنگل جو دنیا بھر کی آکسیجن کا بیس فیصد پیدا کرتے ہیں، ایک ایسی کشش ہے جو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے.  اٹھارویں صدی میں دنیا بھر میں سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی بہت سے مہم جوو ں کو یہاں لایا ہو گا  لیکن کون جانے ان میں سے کتنے  ٢٠ فٹ لمبے اژدہوں ایناکونڈا کا شکار بن گئے ہوں. آپ یہاں ہیں نانا جی. میں سارا ائیرپورٹ ڈھونڈھ چکی ہوں. دبلی پتلی پرتگالی نقوش والی لڑکی نے ہماری گفتگو میں شریک ہوتے ہوۓ کہا. پھر میری طرف مڑکر بولی . معاف  کیجئے گا جناب. میرے نانا کی یاد داشت درست تو ہے مگر گڈ مڈ ………جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.