دکھ سکھ کہانی ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تیئیسواں انشا Prince of the fairy tale, Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast. Episode 23

Once upon a time there lived in Denmark a great storyteller named Hans Christian Andersen. This is his fairy tale.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

دکھ سکھ کہانی ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تیئیسواں انشا، شا رق علی
لان میں خوبانی کے درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھے میں اور بابل کہانی کا انجام سوچ رہے تھے. بابل ہوائی گھوڑے دوڑانے اور میں جملے گھڑنے کا ماہر تھا. ساجھے کی یہ کہانیاں جب کڈز کلب کی ویب سائٹ پر شائع ہوتیں تو ہم پھولے نہ سماتے تھے. سوچ بچار جاری تھا کہ چنے ہوئے تازہ چنبیلی کے پھول طشتری میں لئے یا نی آپا جانے کب ہمارے ساتھ آ بیٹھیں. نگاہ پڑھتے ہی بابل تو رفو چکر ہو گیا. انہوں نے کاغذ ہاتھ سے لیا تو میں بھی سرخ انار ہو گیا. پھر ان کے لبوں پر تمسخر نہیں تعریفی مسکراہٹ دیکھ کر ہمّت باندھی. بابل بھی دوبارہ ساتھ آ بیٹھا. تینوں نے مل کر کہانی مکمل کر لی تو یا نی آپا بولیں. چلو آج تم ایک کہانی کار کی کہانی سنو. ڈنمارک کے قصبے اوڈنسا کے موچی اور دھوبن کے یہاں ١٨٠٥ میں پیدا ہونے والے لڑکے نے چودہ سال کی عمر تک پہنچتے مفلسی کے سب ذائقے چکھ لئے تو اس نے ماں سے درزی بننے کے بجے کوپنہیگن جا کر تھیٹر میں قسمت آزمائی کی اجازت لی. گلوکار، اداکار اور پھر رقاس بننے میں سنگدل ناکامی کے بعد وہ مصنف بن کر تھیٹر سے جڑا رہا . لیکن اس کی تعلیم؟ بابل نے پوچھا. یا نی آپا بولیں. سترہ سال کی عمر میں ایک نیک شخص نے تعلیم دوبارہ شروع کرنے میں اس کی مدد کی. تعلیم تو مکمل ہوئی لیکن اس کی کہانیاں کہے گئے دلکش شاہکار ہیں، لکھے گئے علمی نوشتے نہیں. بار بار محبّت میں ناکام ہو کر وہ تمام عمر کنوارہ ہی رہا اور بیشتر زندگی امیر دوستوں کے گھر مہمان رہنے اور سفر میں گزاری. بہت سے دوست بناے . انگریز ناول نگار چارلس ڈکنز سے اس کی دوستی قابل ذکر ہے. زخم خوردگی، تنہائی اور اداسی کی بازگشت اس کی کہانیوں میں صاف سنائی دیتی ہے. مفلسی اور بورزوایت کی متضاد دنیاؤں سے آگاہی اس کے کرداروں میں جھلکتی ہے. کہانی کا مفہوم اور تاثر مختلف ذہنوں میں مختلف انداز سے ابھرتا ہے. گویا وہ کہانیاں نہ ہوں، نظمیں ہو. ہمارے انتظار حسین کی طرح اس نے بھی نانی اماں سے سنی کہانیوں کو اپنے رنگ میں دوبارہ کہا لیکن بیشتر کہانیاں اور کردار طبع زاد ہیں. دی اگلی دُکلنگ اور دی لٹل مرمیڈ اس کی عالمی شہرت یافتہ کہانیاں اور کردار ہیں. فیری ٹیل لکھ کر شرمندہ ہونے والا شاید یہ نہ جانتا تھا کہ پریوں کی کہانیاں آفاقی شاعری ہوتی ہیں. دنیا کی ہر ثقافت میں گھل مل جانے والی. یوں تو اس کی پہلی کتاب زیادہ کامیاب نہ ہو سکی تھی . وقت گزرا اوراس نے ایک ناول نگار، ڈرامہ نویس اور شاعرکی حیثیت سے لازوال شہرت پائی. عالمی ادب میں اینڈرسن کی حصّے داری بچوں کی کہانیاں ہیں. دنیا کی تقریبا تمام زبانیں بدشکل بطخے اورجل پری جیسے لازوال کرداروں سے آشنا ہیں. اینڈرسن ١٨٧٥ میں کوپنھیگن میں اس دنیا سے رخصت ہوا….جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.