جوتوں تلے سنگترا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بتیسواں انشا An orange trodden by dirty boot, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 32

On the West lane of Hampstead, London, Dada Ji comes across Animal Farm and Mamdu learns about the british political allegorical novelist George Orwell. Enjoy the story!

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

جوتوں تلے سنگترا، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بتیسواں انشا، شارق  علی
دادا جی طالب علمی کا زمانہ یاد کر رہے تھے. کہنے لگے. جن دنوں میں لندن کے علاقے ہمپسٹیڈ میں ایک انتہائی چھوٹے کمرے میں پیئینگ گیسٹ تھا، میری واحد تفریح ویسٹ لین پر پرانی کتابوں کی تلاش تھی . اسکالر شپ اتنی قلیل کے کتاب خرید لو تو ہفتہ بھر پھل اور میٹھے کا ناغہ. ایک دن اینیمل فارم نامی ناول لئے گھر لوٹا تو لینڈ لیڈی نے بتایا کہ جارج اورول غالیبن  ١٩٢٩ میں ہمپسٹڈ میں کتابوں کی دکان پر اسسٹنٹ تھا. کون جارج اورول ؟ میں نے پوچھا. بولے. عالمی شہرت یافتہ صحافی اور ناول نویس. ١٩٠٣ میں بنگال میں پیدا ہوا. ایک سال کی عمر میں باپ کے ساتھ انگلینڈ واپس آیا. خاندانی سرپرستی سے محرومی کے باوجود وہ ایٹن کالج کا ہونہار طالب علم تھا. تعلیم کے بعد ١٩٢٢ میں برما کی برطانوی پولیس کی چھ سالہ نوکری نے اسے سامراجیت کے گھناونے چہرے سے رو شناس کیا . نوکری سے استعفا دے کر تمام عمر اس کا قلم ظلم سے نفرت کرتا رہا. پھر کئی سال لندن اور پیرس میں بے روزگاری یا قلم کی مزدوری سے روکھی سوکھی. شاید ہمپسٹیڈ میں دربدری اور فاقوں کے دوران ہی وہ ٹی بی کا شکار ہوا ہو. اینیمل فارم کی کہانی کیا ہے دادا جی؟ مسکرا کر بولے. تم نے کبھی سوچا کہ فارم میں رہنے والے جانور ہم انسانوں کے ظلم کو کس نظر سے دیکھتے ہوں گے؟ اگر بغاوت پر آمادہ ہو جائیں تو کیا کچھ ممکن ہے؟ مینور فارم کے جانوروں کی بغاوت اس اصول پرکی گئی تھی کہ سب جانور برابر ہیں. کہانی بڑھتی ہے تو اس اصول کے تضادات سامنے آتے ہیں. یہ کتاب فکر انگیز بھی ہے اور اداس کر دینے والی بھی. اورول بہت سادگی اور مہارت سے بظاھر جانوروں کی کہانی میں روسی انقلاب اور سٹالن کے دور کا ظلم اور انسانی صورت حال کا کلاسیکی بیان کرتا ہے. یانی آپا بھی پاس آ بیٹھیں اور بولیں. سوشلسٹ ہونے کے ناطے اس نے اسپینش سول وار میں شریک ہونا ضروری سمجھا تھا. وہاں اس نے کمیونسٹ پارٹی کو اپنے ہی کارکنوں کے ساتھ غداری کرتے دیکھا. اسی دوران ایک فاشسٹ کی گولی اس کی گردن پر لگی لیکن وہ بچ گیا. ١٩٤٠ کے بعد اسے تب خوش حالی میسّرآئی جب اس نے نیو انگلش ویکلی میں کتابوں پر تبصرہ لکھنا شروع کیا. پھر بی بی سی کی ایسٹرن سروس میں ملازمت کی. کام یہ تھا کہ انگریز سامراجیت کے لئے ہندوستانی حمایت حاصل کرنے کے لئے پروپوگنڈا مہم چلائی جا ئے  . وہ اس دور کو دکھ اور شرمندگی سے یاد کرتا ہے. کہتا ہے ” آمدنی بہت اچھی تھی لیکن یوں لگتا تھا جیسے میں گندے جوتوں تلے آیا ہوا سنگترا ہوں”. ضمیر کی آواز پر ١٩٤٣ میں اس نے یہ نوکری بھی چھوڑ دی . ١٩٤٥ میں اینیمل فارم کی اشاعت نے اسے عالمی شھرت سے ہمکنار کیا . ١٩٤٩ میں اس نے اپنی دوسری مشہور کتاب نائینٹین ایٹی فور لکھی. وہ صرف ٤٧ سال کی عمرمیں غربت کے دنوں کی جان لیوابیماری ٹی بی کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوا……جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.