جرات انکار، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل بیسواں انشا Courage to refuse, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 20

This story is about a lady who refused to give up her seat in a bus. She then became the mother of freedom movement.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

جرات انکار، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل  بیسواں انشا، شارق علی
پہلی دسمبر انیس سو  پچپن کی ایک سرد شام، امریکی ریاست الباما کا شہر مونٹگومری. وہ دن بھر کام سے واپسی پر تھکی ہاری  بس کی سیٹ پر بیٹھی ہی تھی کہ ایک سفید فام شخص بس میں داخل  ہوا. ڈرائیور نے اسے سیٹ چھوڑ دینے کو کہا. یوں تو وہ کا لے گوروں کے الگ الگ اسکول، چرچ، دکانوں، اور جگہ جگہ بورڈ پرلکھی تحریروں  صرف گوروں کے لئے، صرف کالوں کے لئے دیکھنے کی عادی تھی اور اس نے سفید فام کے کے کے پارٹی کا تشدد اور سیاہ فام لوگوں کے جلاتے ہوے گھر بھی دیکھ رکھے تھے. لیکن اس لمحے اس نے اپنے دل میں بسنے والے اس یقین کا ساتھ دیا کہ سب انسان برابر ہیں. سیٹ چھوڑنے سے انکار پر بس ڈرائیور نے پولیس طلب کر لی اور رؤسا پارکس کوقانون تفریق کی خلاف ورزی پر پہلے گرفتار اور پھر جرمانے کی سزا ہوئی. جرمانہ ادا کرنے کے بجاے  اس نے اس غیر انسانی قانون کو منسوخ کرنے کے لئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی.اور یوں امریکی تاریخ کے مونٹگومری بس بائی کاٹ کا آغاز ہو گیا. دادا جی کی کہانی نے ہمیں نیرنگ آباد سے پھول بن جانے والے راستے کے خوبصورت منظر سے بے نیاز کر رکھا تھا. انکل منی بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر، میں اور یا نی آپا پچھلی اور دادا جی اگلی سیٹ پر بیٹھے اس کہانی میں گم تھے . میں دل ہی دل میں بہت خوش تھا. اگلے دو ہفتوں کی چھٹیوں میں یا نی آپا کو پھول بن میں اپنے پسندیدہ مقامات پر لے جانے کا یہ سنہری موقع تھا. دادا جی نے بات جاری رکھی. رؤسا پارکس کی جرات انکار نے پورے امریکا کے سیاہ فام قائدین کو حوصلہ بخشا. اور وہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی قیادت میں بسوں پر سواری کے بائی کاٹ پر متحد ہو گئے. یہ کوئی آسان بات نہ تھی. بیشترامریکی سیاہ فام کاروں سے محروم تھے. اس ہڑتال کا مطلب تھا میلوں پیدل چل کر کام پر جانا. لیکن وہ سب پر عزم تھے اورمتحد.یہ احتجاج تین سو اکسٹھ دن تک جاری رہا. بل آخر سپریم کورٹ نے الباما کا قانون تفریق منسوخ کر دیا. اس فیصلے سے مشکلات اور بڑھ گئیں. رؤسا اور دیگر قائدین کو دھمکایا گیا، بہت سوں کے گھر بم کے دھماکوں سے اڑا دیئے گئے. ان میں مارٹن لوتھر کنگ کا گھر بھی شامل تھا. انکل نے منی بس کو مہارت سے موڑا اور بولے. انسانی حقوق کا علم بردار مارٹن لوتھر کنگ جونیئر موجودہ دور کا بہترین مقرر شمار ہوتا ہے. انیس سو تریسٹھ میں واشنگٹن مارچ میں شریک ڈھائی لاکھ  لوگوں کے سامنے کی گئی اس کی تقریر” میرا بھی ہے اک خواب” آج بھی دلوں کو گرما دیتی ہے. میری رائے میں وہ موجودہ تاریخ کی سب سے پر جوش سوچ، سب سے طاقتور آواز ہے. اٹلانٹا جارجیا کا یہ قائد اور  سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ اور عدم تشدد کے راستے مساوی حقوق کی جد و جہد کرنے والا عظیم ہیرو انیس سو اڑسٹھ میں میمفس کے مقام پر قتل کر دیا گیا…..جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.